مرکزی حکومت کارپوریٹ اداروں کی غلام بن گئی ہے ، مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے تلنگانہ حکومت سے خواہش
مسلم رائٹس جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیراہتمام جلسہ ، مولانا ابوطالب رحمانی ، پروفیسر کودنڈا رام ، پروفیسراسلام الدین مجاہد کا خطاب
محبوب نگر ۔26 مئی ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ملک کی آزادی اور اُس کی تعمیر میں جن جن قوموں نے جدوجہد کی ہے اُن سب کو ترقی کے ثمرات سے استفادہ کا موقع ملنا چاہئے ۔ تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے کہ ملک کی آزادی کی لڑائی میں مسلمانوں نے صرف پسینہ ہی نہیں بلکہ اپنا قیمتی خون بھی بہایا ہے ،ان خیالات کا اظہار ملک کے نامور خطیب مولانا ابوطالب رحمانی نے کیا ۔ وہ اتوار کی شب مستقر محبوب نگر کے شالیمار گارڈن میں ایک بڑے جلسہ ’’ہماری آواز ‘‘ سے بحیثیت مہمان خصوصی مخاطب تھے ۔ جلسہ کا اہتمام مسلم رائٹس جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے کیا تھا ۔ جلسہ کی سرپرستی حضرت سید عبدالرزاق شاہ قادری صاحب سجادہ نشین درگاہ حضرت مردان علی شاہ اور منولانا ناصر مظاہری نے کی جبکہ صدارت خواجہ فیاض الدین ( انور پاشاہ ) اور نامور جہد کار حسنین احمد نے کی ۔ مولانا ابوطالب رحمانی نے خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آج کیوں مسلمانوں کو اُن کے آئینی حقوق نہیں دیئے جاتے ، کیوں اُنھیں دھوکا دیاجاتا ہے۔ کیا صرف مسلمان قربانیاں دینے اور حقوق سے محروم ہونے کیلئے ہی ہیں یہ وہ سوال ہے جس کو ہر مسلمان اُٹھانا ہے ۔ انھوں نے بالخصوص حکومت تلنگانہ کو دو ٹوک انداز میں کہا کہ مسلمانوں سے مائناریٹی ڈیکلریشن کا جو وعدہ کیا تھا فی الفور اس کو پورا کریں ۔ یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ مسلمان کسی کو اقتدار دے سکتے ہیں تو بے دخل بھی کرسکتے ہیں ۔ مولانا نے کہاکہ مسلمان قومی سطح پر سازشوں کا شکار ہیں۔ ایس آئی آر کے نام پر ووٹر لسٹ سے مسلمانوں کے نام خارج کئے جارہے ہیں ، ہمیں اس سازش کا اتحاد اور دانشمندی کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے ورنہ جو صورتحال بہار ، آسام اور مغربی بنگال میں ہوئی ہے تلنگانہ میں بھی پیدا ہوسکتا ہے ۔ پروفیسر کودنڈا رام ایم ایل سی نے کہاکہ ملک نازک دور سے گذر رہا ہے۔ ملک میں ایک طاقت دستور کے ڈھانچہ کو ہی تبدیل کرنا چاہتی ہے ۔ دوسری طرف دستور کی حفاظت ، اُس کے اقتدار کی بحالی کیلئے سیکولر جماعتیں اور دانشوران کوشاں ہیں۔ انھوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کارپوریٹ اداروں کی غلام بن گئی ہے ۔ خانگی کمپنیوں کے تحفظ کیلئے کوشش کررہی ہے ۔ ملک میں امیر مزید امیر اور غریب مزید غربت اور افلاس کا شکار ہورہا ہے ۔ انھوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں پر عمل کرے ۔ انھوں نے یقین دلایا کہ وہ مائناریٹی ڈیکلریشن کے تعلق سے حکومت سے نمائندگی کریں گے ۔ پروفیسر اسلام الدین مجاہد نے کہاکہ حکومت نے ڈھائی سال گذار دیئے لیکن مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں کو پس پشت ڈال دیا۔ حصول اقتدار سے قبل کئے گئے وعدوں کو فی الفور پورا کرے ۔ انھوں نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ سنگین مسئلہ ایس آئی آر کا منصوبہ بندی کے ساتھ مقابلہ کریں۔ ریاستی حکومت سپریم کورٹ سے رجوع ہو اور ایس آئی آر پر پابندی لگائے ۔ نیلا کنٹی ستیم ایم ایل سی ، سی پی آئی گومڑی نرسمہا، جولا کنٹی رنگاریڈی سابق ایم ایل ایز ، محمد شکیل ایڈوکیٹ ، نارائنا چلکر سرینواس نے خطابات میں کہا کہ ملک میں روز بروز بڑھتی فرقہ پرستی کے خاتمہ کیلئے تمام طبقات متحدہ جدوجہد کریں۔ جلسہ سے مہمانان اعزازی کی حیثیت سے مولانا عبدالقوی مکتھل ، عبدالرحمن جے جے آر ، مقصود بن احمد ذاکر ایڈوکیٹ ، سید جلال الدین سجادہ نشین بارگاہ کوئل کنڈہ شریک رہے ۔ احمد علی ثناء کو کنوینر جلسہ نے مہمانوں کی شال پوشی کی ۔ جلسہ کے انتظامات میں احمد علی ثناء ، محمد اسمعیل ، حافظ ادریس ، عبداللہ سنی ایڈوکیٹ ، طیب باشوار ، صدیق حسین ، محمد عبدالقدیر ، ہاشم ، اظہر علی ، بدیع اللہ بیگ ، عتیق الرحمن ، ذاکر ، دانش ، شاہد ، بشیر قادری ، چاند پاشاہ و دیگر نے حصہ لیا۔ محمدمحسن خان کے شکریہ کے ساتھ جلسہ اختتام کو پہونچا ۔