مسلمان موت سے ڈرتے اور گھبراتے نہیں ، مرکزی و ریاستی حکومتیں جیل میں بند کرنے کے سوا اور کیا کرسکتی ہے

   

آج مسلمان تو کل دیگر پسماندہ طبقات نشانہ ، مسلمانوں کو دیگر طبقات کے ساتھ جوڑنے کا مشورہ ، گول میز کانفرنس سے جناب عامر علی خاں و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔22مئی(سیاست نیوز)۔ رکن قانون ساز کونسل جناب عامر علی خان نے کہاکہ مسلمان کبھی بھی موت سے ڈرتے اور گھبراتے نہیں ہیں‘ مرکزی ہو یا پھر ریاستی حکومتیں زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو جیل میں بند کرنے کے علاوہ اور کیا کرسکتے ہیں ‘ مگر مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ دیگر اقلیتوں کے ساتھ ساتھ ایس سی ‘ ایس ٹی او ر دوسرے پسماندہ طبقات کو اپنے ساتھ جوڑیں اور انہیں بتائیں اور سمجھائیں کہ آج مسلمان مرکزی حکومت کے نشانے پر ہیں تو کل دلت‘ قبائیلی اور دیگر پسماندہ طبقات کو حکومت نشانہ بنائے گی ۔ مدینہ ایجوکیشن سنٹر میںاشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان محمود آباد کی گرفتاری کے خلاف منعقدہ گول میز کانفرنس سے وہ خطاب کررہے تھے۔ آل انڈیا پروفیشنل کانگریس‘ اسوسیشن فار پروٹیکشن آف سیول رائٹس ‘ تلنگانہ فار پیس اینڈ یونیٹی‘نیشنل الائنس فار پیپلز مومنٹ‘ کانفیڈریشن آف ایس سی ‘ ایس ٹی اوبی سی اینڈ مینارٹیز آرگنائزیشن کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس کی نگرانی ماریہ عارف الدین نے کی جبکہ ایم اے باسط‘ کے مہیشوار راج ‘ جی دیانند رائو‘ روبینہ نفیس‘ ناویکا ہریکا‘ فاروق حسین ‘ محمد احمد خان‘ عرفان عزیز‘ محمد شفیق الزماں‘ غیاث الدین اکبر‘ جاوید ہاشمی‘ ایم اے لطیف‘ محمد فیصح الدین‘ محمد شہاب الدین‘ محترمہ خالدہ پروین ‘ سارہ ماتھیوز‘ پدما جا شاہ‘ فرحانہ خان‘ سہیل قادری ‘ میجر جی ایم قادری‘ پی رامنا‘ پی سدھاکر‘ شہباز علی خان امجد‘ ایم اے لطیف الدین او ردیگرنے خطاب کرتے ہوئے مسلم دانشواروں کے خلاف ہونے والی ظالمانہ کاروائیوں پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے سڑکوں پر اترنے اورمسلسل جدوجہد کرنے کی ضرورت پر زوردیا۔ جناب عامر علی خان نے اپنے سلسلے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آج پروفیسر علی خان محمودآباد ہیں تو کل عامر علی خان بھی ہوسکتے ہیں ۔ مسلمانوں کو ذہنی طور پر ہر صورت حال کاسامنا کرنے کے لئے تیار رہنے کی ضرورت ہے ۔ انہوںنے کہاکہ دستور بچائو عنوان کے تحت میں نے تلنگانہ میں 14اپریل کو ایک ریالی نکالی تھی جس کا اختتام وقف ترمیمی قانون کے خلاف ایک دعائیہ اجتماع پر عمل میں آیا۔ انہوں نے بتایاکہ اس ریالی کے بعد میری سمجھ میںیہی آیا کہ انقلاب جو ہے وہ غریب کے گھر سے اٹھتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں مسلمانوں اور ایس سی ‘ ایس ٹی ہی غریب ہیں اور انقلاب برپا کرنے کے لئے مسلمانوں اور ایس سی‘ ایس ٹی کے علاوہ دیگر پسماندہ طبقات کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں ہر ماہ کی 14 تاریخ کو اقلیتوں اورپسماندہ طبقات پر ڈھائے جارہے مظالم کے خلاف ایک گول میز کانفرنس کے انعقاد سے اتفاق کیا اور کہا کہ 14تاریخ دستور ہند کے معمار ڈاکٹربھیم رائو امبیڈکر کی تاریخ پیدائش بھی ہے اور اس طرح کے اجلاس کے ذریعہ ہم مسلمانوں اور ایس سی‘ ایس ٹی کے درمیان میںاتحاد کی ایک کڑی بن سکتے ہیں۔عامر علی خان نے حلقوں کی از سر نو حد بندی میں ایس سی ‘ ایس ٹی حلقوں کو کم کرنے کا تذکر ہ کرتے ہوئے کہاکہ فی الحال مرکزی حکومت اگر کسی سماج سے سب سے زیادہ خوف زدہ ہے تو وہ ایس سی ‘ ایس ٹی سماج ہے ۔ حالانکہ ایس سی‘ ایس ٹی میں بھی 140 سے زیادہ طبقات ہیں اسکے باوجود وہ اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کرتے ہیں اور اپنا حق مانگنے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں اسی وجہہ سے مودی حکومت فی الحال سب سے زیادہ پریشان ایس سی ‘ ایس ٹی سے ہے مگر اپنی پریشانی کو چھپانے کیلئے مسلمانوں کو ’’پنچنگ بیاگ‘‘ بنائے ہوئے ہے۔عامر علی خان نے اسبات سے بھی اتفاق کیاکہ ایس سی ‘ ایس ٹیز کو مسلمانوں کے خلاف بی جے پی وقتاً فوقتاًاستعمال کرتی ہے مگر ہمیں بھی متحرک ہونا اور پسماندہ طبقات کو ساتھ لے کر ایک نیا پلیٹ فارم تشکیل دینے کی ضرورت ہے ۔عامر علی خان نے کہاکہ پروفیسر علی خان محمود آباد کے سوشیل میڈیا پوسٹ میںایسی کوئی بات ہی نہیں تھی جس کی بنیاد پر انہیں جیل بھیجا جائے مگر نہ صرف ایف آئی آر درج ہوتی ہے اور انہیں جیل بھیج دیاجاتا ہے اس کے برعکس مدھیہ پردیش کے وزیر جئے شاہ نے جو ریمارکس کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف کئے اس پر کوئی کاروائی نہیں کی جاتی ہے جبکہ اس طرح کے ریمارکس سے ایک طرف فو ج کی توہین ہے تودوسری جانب ہندوستانی مسلمانوں کی بھی اس سے دلآزاری ہوئی ہے ۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اگر کوئی مسلمان اپنی رائے میںپوسٹ کرتا ہے تو وہ دہشت گرد بن جاتا ہے اور یہی کام اگر کوئی دوسرے کرتے ہیں تو ان پر کاروائی نہیںہوتی ۔ وشاکھا پٹنم کا ایک واقعہ پیش کرتے ہوئے عامر علی خان نے کہاکہ کیونکہ اس واقعہ میں ایک مسلمان ملوث ہے تو سارے میڈیا چیانلس پر دہشت گرد کا لفظ استعمال کیاجارہا ہے جبکہ اس طرح کے کئی ایک واقعات میں کوئی غیر مسلم ملوث پائے جانے کے باوجود ملزم کے خلاف کبھی ان چیانلوں نے دہشت گرد کے لفظ کا استعمال نہیںکیاہے۔عامر علی خان نے کہا کہ2019میں پلوامہ دہشت گرد حملہ پیش آیا جس میں 300کے جی آرڈی ایکس کا استعمال کیاگیا مگر آج تک معلوم نہیںہوا کہ اتنی بڑی مقدار میں آر ڈی ایکس آیا کہاں سے ہے۔ انہوںنے کہاکہ مرکزی حکومت ’’ توجہہ ہٹانے‘‘ میںمہارت رکھتی ہے ۔ ایسے کئی ایک واقعات ہیںجس سے مودی حکومت کا یہ حربہ کھل کر سامنے آیاہے۔ انہوںنے مزید کہاکہ مودی حکومت نے بڑے مسئلہ کو دبانے کیلئے اس سے بڑا مسئلہ عوام کے سامنے لایا ہے مگر عوام بھی اب چوکس ہوچکی ہے ۔ انہوں نے بات سے بھی اتفاق کیاکہ جمہوریت میںفزیکل طاقت کا مظاہرہ ضروری ہے اور اس کے لئے ہر ماہ ایک میٹنگ طلب کرنی چاہئے تاکہ ضرورت پڑنے پر ہم پوری طاقت کے ساتھ سڑکوں پر اتر سکیںاور اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کرسکیں۔