اضلاع میں کانگریس مضبوط جب کہ شہری علاقوں میں بی جے پی
حیدرآباد ۔ 6 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز) : ریاست میں ٹی آر ایس اور بی جے پی کی اُچھل کود اور دونوں کے درمیان لفظی اور پوسٹرس جنگ سے عام طور پر عوام کے درمیان یہ تاثر پہونچ رہا ہے کہ آئندہ انتخابات ان دونوں جماعتوں کے درمیان ہوں گے مگر مختلف سروے اور انٹلی جنس ذرائع سے اس بات کا پتہ چلا ہے کہ کانگریس پارٹی کی ریاست میں خاموش لہر چل رہی ہے ۔ بھلے ہی کانگریس پارٹی قائدین کے درمیان نظریاتی اختلافات ہوں ۔ ریاست کے عوام ٹی آر ایس کے تلنگانہ میں اور بی جے پی کے مرکز میں دو میعادوں کی حکمرانی سے ناخوش ہیں جس کا راست فائدہ تلنگانہ میں کانگریس کو ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اے ریونت ریڈی کو تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کا صدر بنانے کے بعد کانگریس کیڈر میں ایک نیا جوش و خروش پیدا ہوا اور عوام ٹی آر ایس اور بی جے پی کے بجائے کانگریس پر امیدیں لگائے بیٹھیں ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ مرکز اور ملک کے 18 ریاستوں میں بی جے پی کی حکمرانی ہے ۔ مگر جنوبی ہند میں بی جے پی کا موقف کمزور ہے ۔ بی جے پی کی قومی قیادت نے بی جے پی کو جنوبی ہند میں طاقتور بنانے کے لیے حیدرآباد کا انتخاب کرتے ہوئے بی جے پی قومی عاملہ کا اجلاس منعقد کرتے ہوئے وزیر اعظم کے بشمول بی جے پی کے تمام قائدین نے آئندہ تلنگانہ میں بی جے پی کو اقتدار حاصل ہونے کا پیغام دینے کی کوشش کی ہے اور ٹی آر ایس حکومت کو جم کر تنقیدوں کا نشانہ بناتے ہوئے ہر محاذ پر ناکام ہوجانے کا دعویٰ کیا ہے ۔ دوسری جانب ٹی آر ایس نے بھی بی جے پی قیادت کو اسی انداز میں جواب دیا ہے ۔ بی جے پی سے پہلے ٹی آر ایس نے شہر حیدرآباد کے میٹرو پلرس ، آر ٹی سی بس شلٹرس اور خانگی ہورڈنگس کے علاوہ تمام اخبارات میں حکومت کی 8 سالہ کارکردگی کے اشتہارات چھپانے یا تشہیر کرنے کے آرڈرس بک کراتے ہوئے بی جے پی کو بہت بڑا جھٹکا دیا ہے تاکہ بی جے پی قومی اجلاس کی خبروں کے لیے اخبارات میں کوئی جگہ باقی نہیں رہے ساتھ ہی جس دن وزیراعظم نریندر مودی حیدرآباد پہونچنے والے تھے اسی دن اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ صدارتی امیدوار یشونت سنہا کو حیدرآباد طلب کیا ۔ 6 ہزار موٹر سائیکلوں کے ساتھ بائیک ریالی منظم کی ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے وزیراعظم سے سوالات کی بوچھار کردی ۔ ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان مسابقت کی جنگ میں کانگریس خاموش نظر آئی ۔ مگر ریاست کے مختلف اضلاع سے وصول ہونے والی اطلاعات یقینا ٹی آر ایس اور بی جے پی کے لیے چونکا دینے والی ثابت ہوگی ۔ شہری علاقوں میں بی جے پی کا وجود ہے ۔ اضلاع میں برائے نام ہے ۔ بیشتر اسمبلی حلقوں میں مقابلہ کرنے کے لیے بی جے پی کے پاس امیدوار نہیں ہے ۔ دوسری جانب ٹی آر ایس میں بڑے پیمانے پر اختلافات ہیں ۔ ارکان اسمبلی اور دوسرے قائدین ایک دوسرے کے خلاف کھلے عام تنقیدیں کررہے ہیں ۔ بیشتر حلقوں میں ٹی آر ایس دو یا تین گروپس میں منقسم ہوگئی ہے ۔ جس کا راست فائدہ کانگریس کو ہوتا نظر آرہا ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ کانگریس ہائی کمان بالخصوص راہول گاندھی نے تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اے ریونت ریڈی کو آزادانہ فیصلے کرنے اور دوسری پارٹیوں کے قائدین کو کانگریس میں شامل کرنے کی مکمل آزادی ہے ۔ سرسلہ میں منعقد ہونے والے بیروزگاری ڈیکلریشن اور کھمم میں منعقد ہونے والے ایس سی ڈیکلریشن کے جلسہ عام میں شرکت کرنے سے اتفاق کیا ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی کے قائدین کانگریس سے رابطہ میں ہے ۔ جس میں سابق وزیر جوپلی کرشنا راؤ کے علاوہ دو سابق ارکان اسمبلی ٹی کرشنا ریڈی اور پی ششی دھر ریڈی کے علاوہ اضلاع محبوب نگر ، ورنگل ، رنگاریڈی ، نظام آباد کے بیشتر قائدین کانگریس سے رابطے میں ہے اور پارٹی میں شامل ہونے کے لیے اچھے مہورت کا انتظار کررہے ہیں ۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ جو قائدین کانگریس سے مستعفی ہو کر ٹی آر ایس اور بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں وہ بھی کانگریس کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ کانگریس پارٹی ہائی کمان نے کانگریس کے قائدین کو ہیڈکوارٹر حیدرآباد چھوڑ کر اضلاع بالخصوص اپنے اپنے اسمبلی حلقوں میں قیام کرتے ہوئے ٹی آر ایس اور بی جے پی حکومتوں کے عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف مہم چلاتے ہوئے عوامی اعتماد حاصل کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ جس کے بعد بیشتر قائدین اضلاع میں سرگرم ہوگئے ہیں ۔ عوام میں کانگریس قائدین کے اختلافات پر بھی بحث ہورہی ہے اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ کانگریس پارٹی میں یہ عام بات ہے ۔ عوام کا زیادہ تر جھکاؤ اضلاع میں کانگریس کی طرف دکھائی دے رہا ہے ۔ شہری حلقوں میں بی جے پی نظر آرہی ہے ۔۔ ن