پٹنہ: جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے قومی جنرل سکریٹری راجیو رنجن نے بے روزگاری کے مسئلہ پر مرکزی حکومت اور بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے آج کہا کہ ملک کے وزیر داخلہ ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر بہار میں جملے بازی کر کے چلے گئے ، لیکن یہ نہیں بتایا کہ کیسے بے روزگاری کے معاملے میں دنیا میں پانچویں نمبر پر ہندوستان کو پہنچادیا۔ رنجن نے پیر کو کہا کہ ایک حالیہ سروے اور ریسرچ گروپ سنٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے مطابق آج ملک میں بے روزگاری کی شرح 10 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی توجہ بے روزگاری کو روکنے پر نہیں ہے ۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں ملازمت کے متلاشی افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔ دوسری جانب حکومت کی پوری توجہ انتخابات پر مرکوز ہے ۔ جے ڈی یو کے جنرل سکریٹری نے مرکزی حکومت اور بی جے پی سے سوالیہ لہجے میں کہا کہ حکومت میں بیٹھے لیڈران کو بتانا چاہئے کہ ان کے ساڑھے نو سال کے دور اقتدار کے بعد بھی نوجوانوں کو نوکریوں کیلئے بھٹکنا کیوں پڑ رہاہے ۔ انہیں بتانا چاہئے کہ ان کے وعدے کے مطابق سالانہ دو کروڑ نوکریاں کیوں نہیں پیدا ہو رہی ہیں۔رنجن نے کہا کہ اس مسئلہ پر حکومت کی خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ وہ بے روزگاری کے مسئلہ کو حل نہیں کرنا چاہتی۔ اگر آپ کو یاد ہو تو اسی حکومت نے نوجوانوں کی ہنر مندی کیلئے پوری دھوم دھام سے وزارت اسکل ڈیولپمنٹ کا اعلان کیا تھا۔ کروڑوں روپے صرف اس وزارت کی تشہیر پر خرچ ہوئے لیکن لیبر بیورو کی رپورٹ نے ان کی پول کھول دی۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ہنر مند کارکنوں کی تعداد صرف دو فیصد تھی جبکہ اسی وقت جنوبی کوریا میں 96 فیصد اور جاپان میں تقریباً 80 فیصد ہنر مند کارکن تھے۔ جے ڈی یو جنرل سکریٹری نے کہا کہ یہ پورا واقعہ حکومت کی لاپرواہی اور غیر موثر ہونے کا ثبوت ہے ۔ اگر حکومت چاہتی تو اڈانی امبانی جیسے ارب پتیوں کی دولت میں اضافے کے تناسب سے ملازمتوں میں اضافہ ہوتا لیکن اس سرمایہ دار دوست حکومت میں معاشی عدم مساوات کو بڑھانے پر ہی زور دیا جارہاہے ۔