امپھال، 5 جون (یو این آئی) منی پور کے ضلع کانگپوکپی کے لوئیبول کھلین گاؤں میں جمعہ کو مشتبہ عسکریت پسندوں کے حملے میں ایک خاتون سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے جبکہ سات مکانات کو آگ لگا دی گئی۔پولیس کے مطابق مسلح حملہ آوروں نے گاؤں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت لیتکھونگم ہاؤکیپ، ان کی اہلیہ ٹِنمیری ہاؤکیپ اور جانگمینلال ہاؤکیپ کے طور پر کی گئی ہے ۔یہ واقعہ کیتھیلمانبی علاقے میں پیش آیا جو کانگپوکپی اور امپھال ویسٹ اضلاع کی سرحد پر واقع ایک حساس علاقہ ہے ۔ مئی 2023 میں نسلی جھڑپوں کے آغاز کے بعد سے یہ علاقہ متعدد بار تشدد کا شکار ہو چکا ہے ۔حکام نے تاحال حملہ آوروں کی شناخت یا واقعے کی اصل وجوہات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے ۔ جمعہ کو پیش آنے والا یہ خونریز واقعہ ضلع کانگپوکپی میں آتش زنی کے ایک اور واقعے کے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے بعد سامنے آیا ہے ۔ اس سے قبل مسلح شرپسندوں نے خرام وائفی گاؤں میں کئی گھروں کو نذرِ آتش کر دیا تھا، جو ضلع میں جاری کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے ۔قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ لوگوں کے اغوا کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں اور ضلع میں اغوا کیے گئے 20 افراد کی رہائی کے مطالبے پر احتجاجی مظاہرے اب بھی جاری ہیں۔
فوجی چوکی پر حملے کی وائرل ویڈیو فرضی
نئی دہلی، 5 جون (یو این آئی) مسلح افواج نے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں کیے جا رہے اس دعوے کو غلط بتایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ منی پور میں “کوکی گوریلا” نے فوج کی ایک چوکی پر حملہ کیا ہے جس میں کئی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ مسلح افواج نے جمعہ کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ دعویٰ غلط ہے اور اس ویڈیو کا مقصد نسلی تناؤ کو بھڑکانا ہے ۔
وائرل ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ “صبح سویرے کوکی گوریلا نے منی پور میں ہندوستانی فوج کی ایک پوسٹ پر حملہ کیا، جس میں کئی ہندوستانی فوجی ہلاک اور زخمی ہو گئے ۔” مسلح افواج نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمال مشرقی ریاست میں ہندوستانی فوج کے کسی ٹھکانے پر ایسے کسی حملے یا فوجیوں کے بڑے پیمانے پر ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی سرکاری طور ]ر تصدیق نہیں ہوئی ہے ۔ مسلح افواج نے کہا ہے کہ پاکستان میں قائم کچھ ‘پروپیگنڈا اکاؤنٹس’ عوام کو گمراہ کرنے اور ہندوستانی مسلح افواج کے امیج کو خراب کرنے کے لیے من گھڑت باتیں پھیلا رہے ہیں۔