ملک میں غیر معلنہ ایمرجنسی ، مقدمات سے خوف نہیں، تلنگانہ میں اقتدار بی جے پی کا خواب، مرکز میں غیر بی جے پی حکومت ضروری
حیدرآباد ۔ 11 ۔ جولائی (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے وزیراعظم نریندر مودی کو ملک کی تاریخ کے انتہائی کمزور اور نااہل وزیراعظم قرار دیا اور کہا کہ گزشتہ 8 برسوں میں مرکز کے مختلف فیصلوں کے بارے میں نریندر مودی عوام کو جواب دہ ہیں۔ پرگتی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب میں چیف منسٹر نے وزیراعظم اور مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں غیر معلنہ ایمرجنسی نافذ ہے ۔ کے سی آر نے کہا کہ پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ، بیروزگاری، مختلف اسکامس و نفرت پر مبنی جرائم پر وزیراعظم کو جواب دینا چاہئے۔ روپئے کی قدر میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے کے سی آر نے مودی کا ایک پرانا ویڈیو کلپ پیش کیا جس میں وہ روپئے کی گھٹتی قدر پر یو پی اے حکومت کو نشانہ بنارہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی کو آج ملک کو جواب دینا چاہئے کہ ڈالر کے مقابلہ روپئے کی قدر اس قدر کیوں گھٹ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر کے مقابلہ روپئے کی قیمت تقریباً 80 روپئے ہوچکی ہے جو اب تک کی سب سے زیادہ قیمت ہے۔ ہم وزیراعظم سے وجوہات پر سوالات کر رہے ہیں لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا۔ نیپال ، بنگلہ دیش و سری لنکا سے زیادہ ہندوستان کی کرنسی ڈالر کے مقابلہ گھٹ چکی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ہندوستان کیلئے پاکستان سے زیادہ چین بڑا خطرہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت غیر متحرک ، غیر کارکرد و مسائل سے ناواقف ہے۔ مرکزی حکومت تمام محاذوں پر ناکام ہوچکی ہے جبکہ تلنگانہ حکومت نے کئی محاذوں پر کامیابی حاصل کی۔ بیرونی سرمایہ کاری ، عوام کو صاف پینے کے پانی کی سربراہی ، برقی اور آبپاشی کے شعبوں میں تلنگانہ نے غیر معمولی ترقی کی۔ حیدرآباد میں بی جے پی کی قومی عاملہ کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم اور دیگر قائدین کی تقاریر کا حوالہ دیتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ ٹی آر ایس نے جو سوالات کئے تھے، ان کا جواب نہیں دیا گیا۔ مرکز میں بی جے پی حکومت کا صرف دیڑھ سال باقی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بی جے پی کی جگہ اپوزیشن کی حکومت قائم ہو۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عوام کی ترقی اور بھلائی کے بجائے مذہب اور نفرت کی سیاست کی جارہی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کو چیلنج کیا کہ وہ تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت کو غیر مستحکم کرے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ملک میں غیر بی جے پی حکومتوں کو غیر جمہوری اور غیر دستوری انداز میں غیر مستحکم کر رہی ہے۔ عوامی منتخب حکومتوں کو زوال سے دوچار کرنا ٹھیک نہیں۔ انہوں نے مہاراشٹرا کی ادھو ٹھاکرے حکومت کے زوال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کا اقتدار محض ایک خواب ہے۔ مرکز میں تلنگانہ کی طرح فلاحی اور ترقیاتی حکومت چاہئے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے ذریعہ اپوزیشن کو دھمکانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ بی جے پی میں شمولیت کے ساتھ ہی کئی قائدین کے مقدمات پر خاموشی اختیار کرلی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس مقدمات اور دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوگی۔ ٹی آر ایس جدوجہد کی پارٹی ہے اور ہم مقدمات اور جیل سے ڈرنے والی نہیں ہے۔ تلگو دیشم ارکان پارلیمنٹ سوجنا چودھری ، سی ایم رمیش کے علاوہ مغربی بنگال کے رکن پارلیمنٹ مکل رام ، مہاراشٹرا کے سابق چیف منسٹر نارائن رانے اور دیگر قائدین کے مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ بی جے پی میں شمولیت کے ساتھ ہی ’’واشنگ پاؤڈر نرما ‘‘ کی طرح مقدمات دھل جاتے ہیں۔ ر