کولکاتا۔ 9 مئی (یو این آئی) مغربی بنگال کے نئے وزیر اعلیٰ کی تقریبِ حلف برداری کے اسٹیج پر ایک جذباتی اور تاریخی لمحہ دیکھنے کو ملا، جب وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال میں بی جے پی کے سب سے پرانے اور معزز کارکنوں میں سے ایک ماکھن لال سرکار کے پیر چھو کر ان کا آشیرواد لیا۔ 98 سال کی عمر میں بھی ماکھن لال سرکار آزادی کے بعد کے ہندوستان میں قوم پرست تحریک کی جڑوں سے گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کی سیاسی اور سماجی خدمات دہائیوں پرانی ہیں۔سال 1952 میں جب ڈاکٹر شیامہ پرساد مکھرجی نے کشمیر میں ہندوستانی ترنگا لہرانے کے لیے تحریک شروع کی تھی، تب مسٹر ماکھن لال ان کے ساتھ تھے اور اسی دوران انہیں کشمیر میں گرفتار بھی کیا گیا تھا۔سال 1980 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی تشکیل کے بعد مسٹر ماکھن لال نے مغربی دیناج پور، جلپائی گوڑی اور دارجلنگ کے لیے تنظیمی کوآرڈینیٹر کے طور پر ذمہ داری سنبھالی۔اس کے بعد 1981 سے لگاتار سات برسوں تک انہوں نے ضلع صدر کے طور پر اپنی خدمات انجام دیں۔ پارٹی کے ابتدائی اور جدوجہد والے برسوں کے دوران ان کی یہ خدمات آج بھی تنظیم کے لیے مثال مانی جاتی ہیں۔