محکمہ موسیات سے ریاست بھر کیلئے ریڈ الرٹ ۔ ریاست میں 5 پراجکٹس کے دروازے کھول دئیے گئے ، کئی تالابوں میں شگاف
حیدرآباد ۔ 9 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز) : محکمہ موسیات نے سارے تلنگانہ کیلئے ریڈ الرٹ جاری کرکے آئندہ 48 گھنٹوں تک زیادہ اور حد سے زیادہ بارش کی پیش قیاسی کرکے حکام کو چوکسی اختیار کرنے کا انتباہ دیا ۔ حیدرآباد کے علاوہ مختلف اضلاع بالخصوص نظام آباد ، نرمل ، بھینسہ ، کھمم ، ورنگل و دیگر مقامات پر زور دار بارش ہوئی جس سے متذکرہ شہر اور ٹاون بارش کے پانی سے جل تھل میں تبدیل ہوگئے ۔ 5 پراجکٹس کے دروازے کھول کر پانی چھوڑا گیا کئی تالابوں میں شگاف پڑ گیا جس سے بیشتر کھیتوں اور مکانات میں پانی داخل ہوگیا ۔ سڑکوں کو بڑے پیمانے پر نقصان ہونچا کئی گاوں کا عام زندگی سے رشتہ ٹوٹ گیا اور کئی مقامات پر برقی سربراہی منقطع ہوگئی ۔ موسلا دھار بارش کی وجہ سے کئی تالابیں ، جھیل لبریز ہوگئی اور آبپاشی پراجکٹس میں پانی کے بہاؤ میں تیزی پیدا ہوگئی ۔ ایلم پلی پراجکٹ میں پانی کا بہاؤ بڑھنے پر حکام نے پراجکٹ کے گیٹس 0.5 میٹر اوپر اٹھا کر نچلے حصہ میں پانی خارج کرنا شروع کردیا ۔ ضلع نرمل کے کڈم پراجکٹ میں بھی پانی کا بہاؤ بڑھ گیا جس پر عہدیداروں نے 9 گیٹس کھول کر پانی چھوڑ دیا ۔ ضلع کمرم بھیم آصف آباد کے وٹی واگو پراجکٹ کے تین گیٹس کھول کر پانی جاری کیا جارہا ہے ۔ ساتھ ہی گڈنا پراجکٹ کے چار گیٹ کھول کر پانی جاری کیا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ ریاست کے دیگر پراجکٹس میں بھی پانی تیزی سے جمع ہورہا ہے ۔ اگر بارش کا سلسلہ جاری رہا تو مزید کئی پراجکٹس کے گیٹس کھول کر پانی جاری کرنا پڑیگا ۔ شہر حیدرآباد کے مختلف مقامات بنجارہ ہلز ، جوبلی ہلز ، فلم نگر ، ٹولی چوکی ، منی کنڈہ ، گچی باولی ، لنگم پلی ، عنبر پیٹ ، رامنتا پور ، سکندرآباد ، بوئن پلی ، بیگم پیٹ ، خیریت آباد ، لکڑی کا پل ، نامپلی ، معظم جاہی مارکٹ ، کوٹھی ، افضل گنج ، چارمینار ، شاہ علی بنڈہ ، یاقوت پورہ ، فلک نما ، چندرائن گٹہ ، بہادر پورہ ، کشن باغ ، راجندر نگر ، ملک پیٹ ، سعید آباد کے علاوہ دوسرے مقامات پر کل سے مسلسل بارش ہورہی ہے جس سے کئی سڑکیں جھیل میں تبدیل ہوگئی اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا ۔ کئی مکانات میں پانی داخل ہوگیا جس سے عوام کو مشکلات سے دوچار ہونا پڑرہا ہے ۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے چوکسی اختیار کی گئی ہے ۔ عوام کو ایمرجنسی ہو تو ہی گھروں سے نکلنے کا مشورہ دیا گیا ہے ۔ ریاست کے دوسرے مقامات پر بھی زور دار بارش ہورہی ہے ۔ ضلع نرمل کے مدھول میں 20 سنٹی میٹر ، بھینسہ میں 17 سنٹی میٹر جکران پلی میں 16 سنٹی میٹر ، باسرا میں 15 سنٹی میٹر بارش ریکارڈ اس کے علاوہ ضلع نظام آباد کے مختلف مقامات پر زبردست بارش ہوئی ہے ۔ نرمل ، کاماریڈی ، راجنا سرسلہ ، جگتیال میں زایدہ اور حد سے زیادہ بارش ریکارڈ ہوئی ہے ۔ ضلع نلگنڈہ میں بارش کا سلسلہ جاری ہے ۔ جس کے پیش نظر موسیٰ پراجکٹ کے تین گیٹس کھول کر پانی جاری کیا جارہا ہے ۔ سب سے زیادہ ضلع نظام آباد میں 98 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے ۔ ضلع کلکٹریٹ میں خصوصی کنٹرول روم قائم کرکے عوام کی مدد کی جارہی ہے ۔ مئیر حیدرآباد جی وجیہ لکشمی نے بتایا کہ جی ایچ ایم سی کے کنٹرول روم کو تقریبا 400 شکایتیں وصول ہوئی جس میں 383 شکایتوں کو فوری حل کردیا گیا ہے ۔ بلدیہ کی مانسون ٹیموں کو متحرک رکھا گیا ۔ چیف منسٹر کے سی آر سے ہدایت وصول ہونے کے بعد چیف سکریٹری سومیش کمار نے ریاست کے تمام اضلاع کلکٹرس اور متعلقہ محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیداروں سے رابطہ پیدا کرکے بارش کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا ۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے آئندہ 48 گھنٹوں کیلیے ریڈ الرٹ پر تبادلہ خیال کیا اور سیلاب زدہ علاقوں اور نشیبی علاقوں سے عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے ضروری کارروائی کی ہدایت دی ۔ پراجکٹس پر نظر رکھنے پانی خطرہ کے نشان سے اوپر ہونے پر پانی خارج کرنے اور مقامی عوام کو چوکنا کرنے پر زور دیا ۔ جن اضلاع میں زیادہ بارش ہوئی ہے اور بارش کی پیش قیاسی کی گئی ہے ان میں این ڈی آر ایف ، اور ریسکیو ٹیموں کو تیار رکھنے کی ہدایت دی۔۔ن