موسیٰ ندی پر قبضہ ، غیرمجاز تعمیرات ، شہریوں میں تشویش

   

حیڈرا کی خاموشی اور غفلت سے بلڈرس کے حوصلے بلند : لبنیٰ ثروت
حیدرآباد 14 مئی ۔ ( سیاست نیوز) موسیٰ ندی پر قبضہ اور تعمیراتی کاموں پر شہریوں کی جانب سے تشویش جاری ہے ۔ موسیٰ ندی ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ، ایم ایم ڈی اور حیڈرا کی جانب سے خاموشی اور مجرمانہ غفلت بڑے سرمایہ داروں اور بلڈرس کی مبینہ حوصلہ افزائی کا سبب بنتے جارہے ہیں۔ نیچی ریلولہ علاقہ میں جاری تعمیراتی کاموں پر روک لگانے کے عدالت کے احکامات کے باوجود اس علاقہ میں جہاں موسیٰ ندی پر قبضہ کرلیاگیاہے تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ندی ، تالابوں کی بحالی اور ماحولیات کے تحفظ کے لئے سرگرم سماجی کارکن اور کانگریس قائد لبنیٰ ثروت نے ان سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے آج اپنی پانچویں درخواست کو پرنسپل سکریٹری محکمہ بلدی نظم و نسق کے حوالے کیا اور ایچ ایم ڈی اے کے موقف کو واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔ سال 2024ء میں آئے فیصلے پر ایچ ایم ڈی اے نے عدالت میں اپنا موقف پیش کرتے ہوئے آدتیہ کو دی گئی اجازت کو منسوخ کردیا تھا اور کہا تھا کہ ایچ ایم ڈی اے کے شرائط پر عمل کرنے کے بعد اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے گی ۔ عدالت میں اپنا واضح موقف ظاہر کرنے کے بعد آج بھی اس علاقہ میں سرگرمیاں جاری ہیں ۔ محترمہ لبنیٰ ثروت نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آدتیہ کی جانب سے تشہیر بھی شروع کردی گئی اور اس اقدام پر سرکاری ایجنسیوں اور محکموں کی خاموشی معنیٰ خیز ثابت ہورہی ہے ۔ آخر سرکاری محکموں کی جانب سے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کیوں کی جارہی ہے ۔ لبنیٰ ثروت نے کہاکہ موسیٰ ندی کو ختم کردیا جارہا ہے ۔ ندی کو سرنگ بنادیا گیا اور کلورٹ تعمیر کیا جارہا ہے ۔ انھوں نے ریاست میں اپرا کی موجودگی پر بھی سوال اُٹھایا ہے ۔ اور کہا کہ اپرا کی بغیر اجازت نہ ہی تعمیر ہوسکتی ہے اور نہ ہی تشہیر لیکن موسیٰ ندی نچی ریلولے علاقہ میں سب کچھ جاری ہے۔ ان سرمایہ کاروں کی سرگرمیوں سے عام شہری سوال کرنے پر مجبور ہے کہ کیا قانون صرف غریب اور عام عوام کیلئے ہے تو پھر حیڈرا اس جانب کیوں توجہہ نہیں دیتا ۔ انھوں نے پرنسپل سکریٹری محکمہ بلدی نظم و نسق سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنا موقف ظاہر کرے اور عوام کو جواب دے کہ موسیٰ ندی کو بچانے کیلئے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں اور ساتھ ہی عدالت میں دیئے گئے جواب اور اس پر اقدامات کا بھی اپنا واضح موقف ظاہر کیا جائے ۔ ع