مومن فقط احکام الٰہی کا ہے پابند

   

محمد مبشرالدین خرم
دنیائے عرب نے عجمی ملک ایران کی طاقت اور اس کے اثر و رسوخ کو نہ صرف قبول کرنا شروع کردیا ہے بلکہ اس بات کو بھی تسلیم کرنے لگ گئی ہے کہ اگر کوئی طاقت دنیا کے سوپر پاؤر کو گھٹنوں کے بل لاسکتی ہے تو وہ اسی عجمی ملک میں موجود صلاحیت ہے جس نے طویل پابندیوں اور قربانیوں کے ذریعہ خود میں پیدا کی ہیں۔ ایران ۔اسرائیل وامریکہ کے درمیان 40 روزہ جنگ بندی کے آغازسے قبل امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ نے جو دھمکی دی تھی اس میں یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ایک رات میں ’دنیا کی ایک تہذیب کو مٹانے جا رہے ہیں‘ کسی ملک یا قوم کے لئے کسی سوپر پاؤر کی جانب سے دی جانے والی یہ دھمکی کوئی معمولی بات نہیں تھی لیکن ایران اور ایرانی قوم نے اپنی تہذیب و تمدن کے تحفظ کے لئے اپنی جان کی قربانی دینے کے جس جذبہ کا اظہار کیا وہ نہ صرف قابل رشک ہے بلکہ دنیا بھر کے آفاقی مذاہب اور قدیم روایتی قابل رشک تہذیبوں کے لئے سبق ہے خاص طور پر ان لوگوں کے لئے جنہیں اپنی تہذیبی روایات پر فخر ہے اور وہ اپنی تہذیبی روایات کے تذکرہ پر شرمندگی محسوس نہیں کرتے بلکہ اپنے اسلاف کے کارناموں کو فخر کے ساتھ بیان کرتے ہیں لیکن موجودہ معاشرہ میں جو لوگ اپنے اجداد کے متعلق بتانے میں شرمندگی محسوس کرتے ہیں انہیں ایرانی عوام کی قربانیوں کا احساس نہیں ہوگا۔7 اپریل کی رات دنیا بھر میں کوئی ایسا اہل دل نہیں ہوگا جس نے ایران کو دی گئی دھمکی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی صدر کو وحشی اور پاگل قرار نہ دیا ہو۔ امریکی صدر کی دھمکی کے بعد برطانیہ سے B-52 بمبار طیاروں کی پروازوں میں اڑان نے خبطی شخص کے ارادوں کو ظاہر کرنا شروع کردیا تھا لیکن اس کے باوجود ایرانی عوام نے اپنے ملک کے ان اثاثہ جات کے تحفظ کے لئے جن کے ذریعہ توانائی پیدا کی جاتی ہے ’انسانی زنجیر‘ بناتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ اگر کوئی ان کے اثاثہ جات و تہذیب مٹانے کے لئے آمادہ ہے تو وہ اپنی زندگیوں کی قربانی دیتے ہوئے اپنی تہذیب کی نئی تاریخ رقم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ دنیا نے 7اور 8 اپریل 2026 کی درمیانی شب دنیا کی ایک ایسی قوم کی گواہ بنی جس نے اپنی تہذیب اور قوم پرستی کے ذریعہ ان عالمی طاقتوں کو بھی سرنگوں کردیا جن کے وحشی پن اور سازشوں سے کئی سربراہان مملکت کی روحیں کانپ جاتی ہیں۔ جمہوری ممالک ہوں یا شاہی نظام حکمرانی کے ذریعہ اپنے رعایا کو غلام بنانے والے ہوں تمام ممالک کے عوام اور حقیقت پسند حکمرانوں کو ایرانی عوام کے حوصلہ پر عش عش کرتے دیکھا گیا۔
وہ عرب حکمراں جن کے ہاتھوں میں انتظام حرم کے سبب ’محترم‘ بن چکے ہیں وہ بھی اس خبطی کو اکسانے میں مصروف تھے جن کی تاریخ قبائیلی جنگوں اور عصبیت پر محیط ہے اور ماقبل اسلام جن کی تہذیب دنیائے عرب کو شرمسار کیا کرتی تھی ۔ نبی آخرالزماںﷺ کی تعلیمات نے جس تہذیب کو انسانیت سے آشنا کیا‘ جن کی تہذیب کا تذکرہ نجاشی کے دربار میں حضرت جعفر طیار ؓکی خطبہ میں ملتا ہے ۔ان ’محترم‘ کے متعلق امریکی ’خبطی‘ نے جس زبان کا استعمال کیا وہ یہاں ’ضبط تحریر‘ کے قابل بھی نہیں ہے کیونکہ ہم اس تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں جن کی روایات ’دین اسلام‘ نے ڈالی تھی۔ عرب حکمران جنہیں اس بات کو فراموش کرچکے تھے کہ اللہ نے ان کے کھلے ہوئے دشمن کو آشکار کردیا ہے اسی لئے وہ ان لوگوں کو اپنا دوست بنانے لگ گئے تھے جو اپنی سازشوں کے ذریعہ اسلامی تعلیمات کو عصری علوم اور ترقی کے دور سے ہم آہنگ کرنے کے نام پر مسلمانوں کو دین سے دور کرنے میں مصروف ہیں۔انتظام حرم کے نتیجہ کے میں دنیائے اسلام میں’قدر و منزلت ‘ کی نگاہ سے دیکھے جانے والے ’محترم‘ کے متعلق ڈونالڈ ٹرمپ کے ریمارکس پر وہ لوگ آگ بگولہ نہیں ہوتے نظر نہیں آئے جو ان کے ’دعوت و تبلیغ‘ کے لئے مختص کردہ بجٹ(ریال‘دینار ودرہم) کی بنیاد پر انہیں ’محترم‘ قرار دیتے ہوئے ’قدر و منزلت‘ کی نگاہ سے دیکھنے کی تاکید و تلقین کرتے ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے’ محمد بن سلمان ‘کی جس انداز میں تذلیل کی ہے وہ نہ صرف عربوںکے متعلق ان کے نظریہ کو آشکار کرتا ہے بلکہ وہ عرب کے جوش کو گرمانے کے لئے بھی کافی ہے۔40یوم کی اس جنگ کے دوران ٹرمپ کے خبطی پن میں کی جانے والی حرکتیں اور دیئے جانے والے بیانات اور ایران کے صبرو استقلال ‘ استقامت و بے باکی نے عالم اسلام کو متحد ہونے کا جو موقع فراہم کیا ہے اس موقع سے اگر دنیائے اسلام فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا محاذ تشکیل دیتی ہے تو ایسی صورت میں اپنا تیل ‘ اپنی راہداری(آبنائے ہرموز) اپنی تیل کمپنیاں (آرامکو‘ راس العفان) کے ذریعہ دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور معیشت اور ایران کی جرأتمندانہ پالیسی کے ذریعہ حکومت کرسکتے ہیں۔
ہندستان اور ایران میں اشتراکیت کا اگر جائزہ لیا جائے تو ہندستانی تہذیب8تا10 ہزار سال قدیم ہے اور ایرانی تہذیب بھی 7تا10 ہزار سال قدیم ہے لیکن جس وقت خبطی ڈونالڈ ٹرمپ نے دنیا کی ایک تہذیب کو مٹادینے کا اعلان کیا اس وقت ہندستان یہ بدقسمتی رہی کہ اس نے ’ایرانی ‘ تہذیب کو مٹانے کے اعلان کی مذمت تک نہیں کی لیکن ’’راہول گاندھی‘‘ نے ٹرمپ کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے ہندستان کی تہذیبی روایات کی پاسداری کے ذریعہ ہندستان کی عزت کو بچانے میں کسی قدر رول ادا کیا لیکن ہندستانی خارجہ پالیسی کی ’غیر جانبداری پر طرفداری ‘ کو دی جانے والی فوقیت نے ’اسلام آبار‘ کو عالمی سطح پر مذاکرات کا ’مرکز و محور‘ بنا دیا۔ جنگ بندی کے لئے پاکستان میں مذاکرات کے لئے نائب صدر امریکہ جے ڈی وینس اور ان کے ساتھیوں کی آمد اور اس سے چند گھنٹے قبل ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف ‘ وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر کی آمد اور ’اسلام آباد مذاکرات‘ میں حصہ لینے کی تیاری نے دنیا بھر میں پاکستان کے وقار کو یقینی طو رپر بلند کیا ہے لیکن مذاکرات میں حصہ لینے والے بھی اس بات سے انکار نہیں کرسکتے کہ وہ ایک ایسے ملک میں مذاکرات کر رہے ہیں جو دہشت گردی اور شدت پسندی کا منبع رہا ہے۔ ایرانی وفد جس طیارے سے اسلام آباد پہنچا وہ اس قدر وزنی تھا کہ اس کا بوجھ نہ صرف پوری فضاء نے محسوس کیا بلکہ ’ایران ‘ نے مناب کے 168 اسکولی طلبہ کی تصاویر اور ان کے بستوں اور کتابوں کے علاوہ دیگر اشیاء کو اس طیارے میں ’اسلام آباد ‘ لاتے ہوئے کربلاء کے ان معصوم شہداء کی یاد تازہ کردی جس نے ابن زیاداوریزید کو ابدی طور پر ذلیل ولعین بنادیا ہے۔کربلاء کے معصوم شہداء سیدہ سکینہ ؓ‘ حضرت عون و محمدؓ ‘ حضرت علی اصغرؓ‘ حضرت علی اکبرؓ‘ شہزادۂ قاسمؓ اور دیگر معصومین کی شہادت نے دنیائے انسانیت کو جس طرح شرمسار کیا تھااسی طرح ان 168 معصوم شہادتوں نے دنیا کے آگے بنجامن نتن یاہواور ڈونالڈ ٹرمپ کو وقت کے یزید اور ابن زیاد بنا دیا ہے۔’اسلام آباد مذاکرات ‘ کے ذریعہ ایران نہ صرف دنیا کے آگے اسرائیلی و امریکی مظالم کو پیش کر رہا ہے بلکہ ان کی غیر انسانی حرکتوں کو دنیا کے سامنے لانے کے لئے بھی ’اسلام آباد‘ میں ہونے والے مذاکرات کے پلیٹ فارم کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کی حکمت عملی تیار کئے ہوئے ہے۔ اگر ہم ’طرفدار ‘ ہونے کے بجائے ’غیر جانبدار‘ ہوتے تو’ اسلام آباد‘ کو نہیں بلکہ ’دہلی‘ کو یہ اعزاز حاصل ہوتا۔
40 دن کی اس جنگ نے ایران کو دوست اور دشمن سے آشنا کردیا ہے۔ اسلام آباد مذاکرات جن کے کامیاب ہونے کے قوی امکانات پائے جاتے ہیں کیونکہ ایران نے اپنے گواہان کے طور پر چین اور روس کو اسلام آباد مدعو کیا ہے جبکہ امریکہ نے ایران کے اعتراضات کو مد نظر رکھتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے بجائے سعودی عرب اور قطر کو اپنے گواہان کے طور پر دعوت دی ہے۔ ایران ۔ اسرائیل و امریکہ کے درمیان ہونے والی جنگ میں ایران کو دنیا کی ایک نئی طاقت کے طور پر ابھارا ہے اور ایران اپنے عالمی طاقت ہونے کو قبول بھی کرچکا ہے۔ اسی لئے ایران نے عالمی ذرائع ابلاغ اداروں کو تہران میں اپنے دفاتر کھولنے کیلئے مدعو کرنا شروع کردیا ہے۔ اسی سلسلہ میں ایرانی سفیر متعینہ ہند ڈاکٹر محمد فتح علی نے نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خاں سے دہلی میں ملاقات کے دوران اس بات کی خواہش کا اظہار کیا کہ ’’روزنامہ سیاست‘‘ کے دفتر کا تہران میں قیام عمل میں لائیں اور سیاست کی ایران سے اشاعت کا آغاز کریں کیونکہ ایران میں نہ صرف اردو دوست اور اردو داں بلکہ ہندستانی شہریوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔ علاوہ ازیں ایرانی شہری بھی اردو پڑھنے لکھنے کے علاوہ اردو زبان میں تحقیق کرتے ہیں۔ایران مستقبل قریب میں ’’آبنائے ہرموز‘‘ پر ٹول وصول کرنے لگتا ہے تو ایسی صورت میں دنیا کی ان چنندہ معیشتوں میں ایران کا شمار ہونے لگ جائے گا جو اپنے بل بوتے پر ترقی کر رہی ہیں۔ ایران نے 40 دن کی جنگ اور جنگ بندی کیلئے مذاکرات کے دوران اپنی سیاسی و سفارتی کامیابی کو ظاہر کردیا ہے۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہتا ہے تو معاشی ترقی کی راہ پر بھی ایران تیزی سے گامزن ہونے لگ جائے گا۔
مسلمانوں کو اپنے معاشرہ کو قابل رشک بنانے کے لئے محض عبادات و ریاضت ہی نہیں بلکہ اپنے دین کی ان تعلیمات کا بھی عملی پیکر بننا لازمی ہے جن کے ذریعہ وہ دنیا کے ہر فرد کو دین حق کا پیام دیتے ہوئے یہ بتا سکیں کہ دراصل دین اسلام ہی ہے جو نہ صرف مظلوم اور ظالم دونوں ہی کی مدد کرنے تاکید کرتا ہے۔اللہ ربالعزت نے اپنے حبیب ﷺ کے ذریعہ جو تعلیمات امت تک پہنچائی ہیں ان میں اس بات کی تلقین کی گئی ہے کہ مسلمان اپنے معاشرہ کے لئے سر دھڑ کی بازی لگاتے ہوئے حق و انصاف کی بقاء کے لئے مال و جان کی قربانی سے گریز نہ کریں۔ اسلام معاشرہ اور فرد کی زندگی میں انقلاب عظیم پیدا کرتا ہے اور انقلاب کی بقاء اور تحفظ کی ہر مسلمان سے توقع بھی رکھتا ہے کہ وہ اپنی جان ومال کی بازی لگاتے ہوئے دین اسلام کی اس آفاقی پیام کو عام کرے جس کی دنیا کو ضرورت ہے۔ اسلام نے رہبانیت کاکوئی تصور نہیں دیا ہے اور نہ ہی ترک دنیا کی حمایت کی ہے۔یقینا اسلام عبادات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے لیکن حقوق اللہ کی مصروفیت میں حقوق العباد کو فراموش کرنے کی تعلیم نہیں دیتا۔ اسلام کا انقلاب کوئی معمولی یا سطحی تبدیلی کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک کامل یقین اور نیک اعمال کا عملی نمونہ ہے۔ اس بات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اللہ کے رسولﷺنے مسلمانوں کا جو کردار تیار کرتے ہوئے صحابہ ؓ کی زندگیوں کے ذریعہ ہم تک پہنچایا ہے وہ درحقیقت قرآن کی تعلیمات کے منشاء کے عین مطابق ہے جو بار بار اس بات کی تاکید وہ تذکرہ کرتا ہے کہ جو انسان ظالم ہیں‘ سرکش ہے اور بداعمال ہیں ان کے لئے دوزخ کی صعوبتیں ہیں اور خدا سے ڈرنے والوں اور متقیوں کے لئے نہ ختم ہونے والی عیش و سکون کی زندگی ہے۔حق و صداقت کے روشن چہرہ کو منور کرنے اور انصاف ومساوات کی ان تعلیمات کو عام کرنے کے لئے ان حق پسندوں کو جنہوں نے راہبانہ اور جوگیانہ زندگی اختیار کرتے ہوئے روزہ ‘ نماز ‘ اور حج کی حد تک خود کو محدود کرلیا ہے انہیں اب حق و صداقت کے قیام اور انصاف کے اصولوں کے لئے جان کی بازی لگاتے ہوئے خورشید کا سامان سفر تازہ کرنا ہوگا۔
تقدیر کے پابند نباتات و جمادات
مومن فقط احکام الٰہی کا ہے پابند