تلنگانہ میں مہنگائی کی شرح 6.32 فیصد، ریاستوں میں علحدہ شرح کے نتیجہ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ا ضافہ
حیدرآباد۔24۔اگسٹ (سیاست نیوز) ملک میں بڑھتی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی پر معاشی بوجھ میں اضافہ کردیا ہے۔ جولائی 2026 میں کنزیومر پرائز انڈیکس کے مطابق ریاستوں کے درمیان مہنگائی کی شرح مختلف ریکارڈ کی گئی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ملک میں مجموعی طور پر مہنگائی کی شرح میں ا ضافہ درج کیا گیا۔ تلنگانہ مہنگائی کی شرح میں ملک میں سرفہرست ہے جہاں 6.32 فیصد مہنگائی کی شرح ریکارڈ کی گئی ۔ آندھراپردیش 5.72 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ ٹاملناڈو اور پڈوچیری میں مہنگائی کی شرح 5.44 فیصد ریکارڈ کی گئی ۔ کرناٹک ، اڈیشہ ، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹرا میں مہنگائی کی شرح 4 فیصد سے زائد ریکارڈ کی گئی ہے۔ ریاستوں کے درمیان مہنگائی کی شرح میں تبدیلی کے نتیجہ میں علاقوں کی سطح پر عام آدمی کی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔ گزشتہ دس برسوں کے دوران مرکزی حکومت نے مہنگائی پر قابو پانے کیلئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھائے جس کے نتیجہ میں عوام کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ الیکشن سے قبل برسر اقتدار پارٹی نے مہنگائی پر قابو پانے کو اہم وعدوں کی فہرست میں شامل کیا لیکن عملی طور پر کوئی قدم نہیں اٹھائے گئے جس کے نتیجہ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کا رجحان ہے۔1/k/m/b