صدرنشین محمد سلیم کی نگرانی میں نماز ظہر کی ادائیگی، دو ایکر اراضی کے تحفظ کے اقدامات
حیدرآباد: صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم کی مساعی سے گریٹر حیدرآباد حدود میں غیر آباد مساجد کو آباد کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ مہیشورم منڈل کے منکھال موضع میں تاریخی قطب شاہی مسجد میں آج نماز ظہر کے ساتھ پنج وقتہ نمازوں کا آغاز کیا گیا ہے ۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم اور مقامی افراد کی کثیر تعداد میں مسجد میں نماز ظہر ادا کی اور اسے مستقل طور پر آباد رکھنے کا عہد کیا ۔ مقامی دینی مدرسہ کے ناظم نے نماز ظہر کی امامت کی۔ مقامی افراد نے مسجد کو آباد کرنے پر صدرنشین وقف بورڈ کی ستائش کی ۔ یہ مسجد گزٹ نوٹیفائیڈ ہے جو 16 فروری 1989 ء کے گزٹ نمبر 7A کے سیریل نمبر 3926 کے تحت درج ہے۔ مسجد کے تحت دو ایکر 20 گنٹہ اراضی موجود ہے جو قبرستان اور کھلی اراضی پر محیط ہے۔ محمد سلیم نے مسجد میں تمام سہولتوںکی فراہمی کا تیقن دیا اور کہا کہ بورویل کی تنصیب بہت جلد عمل میں آئے گی ۔ وضو خانے اور ٹائلیٹس کی تعمیر کا کام انجام دیا جائے گا ۔ امام اور مؤذن کی تنخواہ وقف بورڈ کی جانب سے ادا کی جائے گی ۔ صدرنشین وقف بورڈ کی مساعی سے ابھی تک 6 مساجد کو آباد کیا گیا ہے۔
اس سے قبل گولکنڈہ ، خانم میٹ ، آدی بٹلہ ، ابراہیم پٹنم اور ملکم چیروو کی غیر آباد مساجد کو آباد کیا گیا ۔ محمد سلیم نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مسجد کے قریب 100 فٹ کی سڑک کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ تعمیری کام میں مسجد کے حصہ کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی جس پر محمد سلیم نے ریونیو اور پولیس عہدیداروں کا اجلاس منعقد کرتے ہوئے مسجد کی اراضی کا تحفظ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مقامی افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسجد میں باقاعدہ نمازوں کا اہتمام کریں اور اراضی کا تحفظ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ بہت جلد جوائنٹ سروے کے ذریعہ اراضی کی نشاندہی کی جائے گی اور باؤنڈری وال تعمیر کی جائے گی ۔ محمد سلیم نے کہا کہ کے سی آر کی زیر قیادت سیکولر حکومت تلنگانہ میں برسر اقتدار ہے۔ کے سی آر نے سکریٹریٹ کی دونوں مساجد موجودہ مقام پر تعمیر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سیکولرازم کا ثبوت دیا ہے ۔ مساجد کے درمیان موجود اراضی وقف بورڈ کے حوالے کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ انیس الغرباء کے لئے حکومت نے 4000 مربع گز سرکاری اراضی فراہم کی ہے۔ انہوں نے کے سی آر اور کے ٹی آر سے اظہار تشکر کیا جو اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں وقف بورڈ سے تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے ریونیو قانون کے تحت وقف اراضی کو شامل کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ حکومت کے اس فیصلہ سے اوقافی اراضیات محفوظ رہیں گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جہاں کہیں غیر آباد مساجد ہوں ، اس کی اطلاع وقف بورڈ کو دی جائے۔ ریونیو اور پولیس کے تعاون سے مساجد کو آباد کرنے میں مدد ملی ہے ۔