مینارٹیز اسٹڈی سرکل کی سرگرمیاں ٹھپ، اقلیتی امیدواروںکیلئے کوئی کوچنگ نہیں

   


سیول سرویس کوچنگ کی شرائط میں تبدیلی ضروری،سات برسوں میں ایک بھی مسلم منتخب نہیں،کوچنگ کے بجائے صرف میٹریل کی فراہمی
حیدرآباد ۔یکم دسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقلیتوں کو روزگار میں مناسب نمائندگی کے لئے کوچنگ فراہم کرنے کے مقصد سے حکومت نے 2015 ء میں تلنگانہ اسٹیٹ مینارٹیز اسٹڈی سرکل کا قیام عمل میں لایا گیا لیکن یہ ادارہ اپنے قیام کے مقاصد کی تکمیل میں ناکام ہوچکا ہے اور اس کی تمام تر سرگرمیاں ٹھپ ہوچکی ہیں۔ سیول سرویس ، اسٹاف سلیکشن کمیشن ، ریلوے رکروٹمنٹ بورڈ بینکس ، پولیس مسلح افواج اور دیگر پیشہ ورانہ کورسس میں اقلیتی امیدواروں کو رہنمائی اور کوچنگ فراہم کرنے کے مقصد سے 24 ستمبر 2015 ء کو اسٹڈی سرکل کا افتتاح عمل میں آیا لیکن گزشتہ 7 برسوں میں اسٹڈی سرکل کے ذریعہ ایک بھی ٹھوس پروگرام منعقد نہیں ہوا جس کے ذریعہ یہ دعویٰ کیا جاسکے کہ اسٹڈی سرکل کی رہنمائی کے نتیجہ میں امیدوار روزگار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ابتداء میں 6 تا 8 کروڑ روپئے بجٹ مختص کیا گیا لیکن بعد میں اسے گھٹاکر دو کروڑ کر دیا گیا ہے ۔ بجٹ کی اجرائی کے معاملہ میں حکومت فراخدلی کا مظاہرہ نہیں کیا اور کسی بھی سال مکمل بجٹ کی اجرائی عمل میں نہیں آئی۔ گزشتہ 8 برسوں میں جو کچھ بھی بجٹ جاری کیا گیا ، وہ صرف تنخواہوں اور دیگر ضروریات پر خرچ ہوا ہے۔ اسٹڈی سرکل کی جانب سے ہر سال 100 اقلیتی امیدواروں کو سیول سرویس کوچنگ کے لئے اسپانسر کیا جارہا ہے لیکن آج تک ایک بھی امیدوار آئی اے ایس کے لئے منتخب نہیں ہوا۔ ابتداء میں بعض امیدوار پریلمس امتحانات میں کامیاب ضرور ہوئے لیکن مین امتحانات میں کامیاب نہ ہوسکے۔ دو امیدوار انٹرویو تک پہنچنے کے بعد وہاں ناکام ہوگئے ۔ سیول سرویس کوچنگ میں ناقص مظاہرہ کی اہم وجہ حکومت کی شرائط ہیں۔ امیدواروں کے لئے دیہی علاقوں میں سالانہ دیڑھ لاکھ اور شہری علاقوں میں سالانہ دو لاکھ روپئے کی آمدنی کی حد مقرر کی گئی جس کے نتیجہ میں غیر سنجیدہ امیدوار کوچنگ کیلئے رجوع ہورہے ہیں۔ اگر آمدنی کی سالانہ حد کو بڑھاکر کرناٹک کی طرح 5 لاکھ کیا گیا تو کئی قابل امیدوار کوچنگ میں شامل ہوسکتے ہیں۔ آمدنی کی موجودہ حد کے نتیجہ میں کئی سرکاری ملازم کے بچہ بھی سیول سرویس کوچنگ سے محروم ہیں۔ حکومت سے آمدنی کی حد میں اضافہ کی نمائندگی کی گئی لیکن کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔ اسٹڈی سرکل سیول سرویس کوچنگ کے اسپانسر کرنے کے علاوہ کسی اور کوچنگ کے انعقاد میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ حکومت نے جو فرائز الاٹ کئے ، ان میں پبلک سرویس کمیشن کے گروپ امتحانات کی تیاری شامل ہے۔ گروپ I ، II اور III کی جائیدادوں پر تقررات کیلئے وقفہ وقفہ سے نوٹیفکیشن جاری ہورہا ہے لیکن اسٹڈی سرکل کی جانب سے کوچنگ کا کوئی اہتمام نہیں ہے۔ گروپ IV کی جائیدادوں کیلئے بہت جلد نوٹیفکیشن جاری ہوگا جس میں کئی ہز ار جائیدادیں شامل رہیں گی۔ تلنگانہ حکومت80000 سے زائد جائیدادوں پر تقررات کا عمل شروع کرچکی ہے لیکن اسٹڈی سرکل کی جانب سے صرف میٹریل کی اردو زبان میں فراہمی کے علاوہ کوئی کام انجام نہیں دیا گیا۔ اردو میں میٹریل بکس کی تیاری میں اردو اکیڈیمی کا اہم رول ہے۔ گروپ امتحانات کیلئے حیدرآباد اور بعض اضلاع میں کوچنگ درمیان میں ہی ختم کرنی پڑی کیونکہ فیکلٹیز درکار اہلیت کے حامل نہیں تھے جس کے نتیجہ میں امیدواروں نے کوچنگ میں دلچسپی نہیں دکھائی۔ حکومت کو چاہئے کہ اسٹڈی سرکل کو متحرک کرنے کیلئے سرکاری تقررات میں مہارت رکھنے والے عہدیداروںکو مقرر کرے۔ ر