تلنگانہ ہائی کورٹ کی حکومت کو ہدایت
22 اپریل تک جواب داخل کرنے کی مہلت
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ میں آج مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کی گئی جو پرانے شہر حیدرآباد میں میٹرو ریل کے کاموں کے بارے میں داخل کی گئی تھی۔ ایکٹ فار پبلک ویلفیر فاؤنڈیشن کی جانب سے مفاد عاملہ کی درخواست دائر کی گئی جس پر کارگزار چیف جسٹس سجے پال کی زیر قیادت بنچ نے سماعت کی ۔ فاؤنڈیشن نے اپنی درخواست میں شکایت کی کہ میٹرو ریل کے کاموں کے نتیجہ میں تاریخی عمارتوں کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے دلائل پیش کئے اور کہا کہ محکمہ آثار قدیمہ نے جن جائیدادوں کی نشاندہی کی ہے، انہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میٹرو ریل کے کاموں میں اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ تاریخی عمارتوں کو نقصان نہ ہو۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے تاریخی عمارتوں کے تحفظ کا یقین دلاتے ہوئے مزید بتایا کہ ایسی جائیدادیں جن کا معاوضہ ادا کردیا گیا ہے، انہیں حاصل کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے جواب داخل کرنے کیلئے عدالت سے وقت مانگا۔ چیف جسٹس کی زیر قیادت بنچ نے ہدایت دی کہ میٹرو ریل کے کاموں کے نتیجہ میں تاریخی عمارتوں کو کوئی نقصان نہیں ہونا چاہئے ۔ عدالت نے ہدایت دی کہ محکمہ آثار قدیمہ کی طئے کردہ عمارتوں کو کوئی نقصان تعمیری کاموں سے نہ ہونے پائیں۔ چیف جسٹس نے حکومت کو 22 اپریل تک جواب داخل کرنے کی ہدایت دی اور آئندہ سماعت 22 اپریل کو مقرر کی ہے۔1