ادے پور: نامور مصنف اور ایڈیٹر اوم تھانوی نے میڈیا کو سماج کا آئینہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیداری پیدا کرے اور سماج سے جڑے مسائل کے اسباب اور حل پر کام کرے ۔ تھانوی ہفتہ کو یہاں جناردن رائے نگر راجستھان ودیا پیٹھ یونیورسٹی کی طرف سے قائم کوی راؤ موہن سنگھ چیئر کی جانب سے صحافت، میڈیا کی تعلیم اور روزگار کے موضوع پر منعقدہ قومی لیکچر میں کلیدی مقرر کی حیثیت سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اطلاعات وعلم دینے سے زیادہ اہم میڈیا یا اخبارات کا کام ہے کہ وہ اسے شیئر کر کے معاشرے میں ضمیر کو جگائیں تاکہ معاشرے کو جاننے کا بنیادی حق برقرار رہ سکے ۔انہوں نے کہا کہ وقت اور حالات کے پیش نظر ابلاغ کے ذرائع اور ان کی مناسبت میں تبدیلیاں آئی ہیں لیکن کوئی دور ان کے اثرات سے اچھوتا نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی میڈیا نے آزادی اظہار سے لے کر ایمرجنسی تک کا دور دیکھا ہے اور قوم کو سمت دینے کا کام کیا ہے ۔تھانوی نے کہا کہ صحافت کے میدان میں روزگار کے بہت سے مواقع موجود ہیں، لیکن محفوظ روزگار اور نئی ٹیکنالوجی کے مطابق نصاب کی تشکیل اور عمل ایک بڑا چیلنج ہے ۔ جس پر سنجیدہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کے ساتھ صحافت، زبان کی آگاہی اور ماس کمیونیکیشن کا استعمال بھی ایسے شعبے ہیں جن پر کام کرنا ضروری ہے ۔ وائس چانسلر پروفیسر ایس ایس سارنگ دیوت نے کہا کہ بدلتی ہوئی دنیا میں ملک کی ثقافتی اور ادبی روایات کی پاسداری کے ساتھ ساتھ حالات کا مطالعہ کرنا، سوچنا اور خبریں دینا ضروری ہے۔