اسمبلی میں متفقہ قرارداد کی منظوری، ایوان میں پورٹریٹ کی تنصیب، چیف منسٹر اور دیگر ارکان کا خراج
حیدرآباد۔ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کو بھارت رتن اعزاز دیئے جانے مرکز سے درخواست کی گئی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے قرارداد پیش کی جسے تمام جماعتوں کی تائید سے منظور کرلیا گیا۔ لوک سبھا کے مجوزہ اجلاس میں نرسمہا راؤ کو بھارت رتن کے اعلان کا مطالبہ کیا۔مرکز سے مطالبہ کیا گیا کہ پارلیمنٹ میں پی وی نرسمہا راؤ کا مجسمہ نصب کیا جائے اور حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کو ان کے نام سے موسوم کیا جائے۔ چیف منسٹر کی خواہش پر اسپیکر اسمبلی پوچارم سرینواس ریڈی نے اسمبلی میں نرسمہا راؤکے پورٹریٹ کی تنصیب سے اتفاق کیا۔ قرارداد پیش کرتے ہوئے چیف منسٹر کے سی آر نے ملک کیلئے نرسمہاراؤ کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ معاشی اصلاحات کا سہرا نرسمہا راؤ کے سر جاتا ہے جس کے نتیجہ میں ہندوستان دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جواہر لال نہرو جدید ہندوستان کے معمار ہیں تو پی وی نرسمہا راؤ گلوبل انڈیا کے آرکیٹکٹ ہیں۔ وہ فخر تلنگانہ ہیں جو جنوبی ہندوستان سے ملک کے پہلے وزیر اعظم رہے۔ حکومت نے نرسمہا راؤ کی صدی تقاریب ایک سال تک منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نہ صرف ملک بھر میں بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں تقاریب منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل سے سفارتی تعلقات کے استحکام میں نرسمہا راؤ نے اہم رول ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ سنگاپور، انڈونیشیا اور ملیشیا کے ساتھ معاشی و تجارتی امور میں تعلقات بہتر ہوئے۔ ہند ۔ چین سرحد پر قیام امن نرسمہا راؤ کی کامیاب سفارتی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ زرعی اصلاحات اور غریبوں کو اراضیات کی فراہمی کے سلسلہ میں نرسمہا راؤ نے اندرا گاندھی کے ذریعہ اصلاحات پر عمل کرایا۔ انہوں نے لینڈ سیلنگ کے تحت 800 سے زائد ایکر اراضی حکومت کے حوالے کی ہے۔ ملک میں اقامتی تعلیم کے آغاز کیلئے قومی سطح پر نوودیہ ودیالیاس کا نرسمہا راؤ نے آغاز کیا۔انہوں نے کہا کہ مرکز کو نرسمہا راؤکے کارناموں کا اعتراف کرتے ہوئے بھارت رتن اعزاز سے نوازنا چاہیئے۔ ریاستی وزراء کے ٹی راما راؤ، وی سرینواس گوڑ، اے اندرا کرن ریڈی، ستیہ وتی راتھوڑ اور جی کملاکر کے علاوہ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا، اور دیگر ارکان نے نرسمہا راؤ کے کارنامے بیان کرتے ہوئے قرارداد کی تائید کی۔ مجلسی ارکان ایوان سے غیر حاضر رہے۔