قدیم تاریخ اور جدید ٹکنالوجی کا سنگم ، ملک کا پہلا صد فیصد ایل ای ڈی اور وائی فائی سے لیس اسٹیشن
حیدرآباد ۔ 11 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : حیدرآباد کے ساتویں نظام میر عثمان علی خاں کی جانب سے 1916 میں تعمیر کردہ کاچی گوڑہ ریلوے اسٹیشن 10 جون کو اپنے قیام کے 110 سال مکمل کرچکا ہے ۔ یہ ریلوے اسٹیشن صرف ایک ریلوے ٹرمنل نہیں بلکہ آصف جاہی دور کی تعمیراتی مہارت کا ایک شاندار شاہکار ہے ۔ کاچی گوڑہ ریلوے اسٹیشن کی سب سے بڑی خاصیت اس کا منفرد طرز تعمیر ہے اسے گوتھک (Gothic) اور انڈو سارا سنیک طرز پر ڈیزائن کیا گیا ہے ۔ اس تاریخی عمارت کے اوپر بنے گنبد اور مینار اسے کسی ریلوے اسٹیشن کے بجائے ایک محل یا قلعے کی شکل دیتے ہیں اس اسٹیشن کی تعمیر میں اس دور کے مشہور برطانوی انجینئرس اور مقامی کاریگروں نے مل کر کام کیا تھا ۔ اس اسٹیشن پر ساتویں نظام میر عثمان علی خاں اور ان کے شاہی خاندان کے لیے ایک خاص ’ شاہی ویٹنگ روم ‘ بنایا گیا تھا جو آج بھی موجود ہے ۔ جب نظام یا ان کے مہمان ٹرین سے سفر کرتے تھے وہ اسی کمرے میں قیام کرتے تھے ۔ اس کمرے کی سجاوٹ فانوس اور فرنیچر آصف جاہی دور کی عکاسی کرتے ہیں ۔ کاچی گوڑہ ریلوے اسٹیشن اس دور کی مشہور نظام گارنٹیڈ اسٹیٹ ریلوے (NSR) کا سنٹرل ہیڈکوارٹر بھی تھا نظام حیدرآباد برصغیر کے ان چند حکمرانوں میں سے تھے جن کی اپنی ذاتی ریلوے لائنیں اور ٹرینیں ہوا کرتی تھی اور کاچی گوڑہ اس پورے نیٹ ورک کا دل تھا ۔ تاریخی ہونے کے ساتھ ساتھ کاچی گوڑہ ریلوے اسٹیشن نے اس جدید دور میں بھی ایک بڑا ریکارڈ اپنے نام کیا ہے ۔ یہ جنوبی ہند (SCR) اور ملک کا پہلا ایسا بڑا ریلوے اسٹیشن بنا جہاں صد فیصد LED لائٹس لگائی گئی اور اسے مکمل طور پر ڈیجیٹل اور وائی فائی سہولیات سے لیس کیا گیا جس کے لیے کاچی گوڑہ ریلوے اسٹیشن کو گرین اسٹیشن کے ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس اسٹیشن کے اندر ایک خوبصورت ریلوے میوزیم قائم ہے جو عوام کے لیے کھلا ہے ۔ اس میوزیم میں آصف جاہی دور کے ریلوے سگنلس ، پرانے زمانے کے ٹکٹ ، نظام کی ٹرینوں کے ماڈلس ، تاریخی تصاویر اور 100 سال پرانے دور کا مواصلاتی نظام نمائش کے لیے رکھا گیا ہے جو دیکھنے والوں کو ماضی کے سفر پر لے جاتا ہے ۔۔ 2/m/b