نظریاتی اختلاف کے باوجود گورنر کے عہدہ کا احترام ضروری : سوندرا راجن

   


ہر اقدام کو سیاسی رنگ دینا ٹھیک نہیں، میرے فون ٹیاپنگ کا اندیشہ
حیدرآباد۔/22 نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کے ساتھ تنازعات کا سامنا کرنے والی ریاستی گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے کہا کہ گورنرکی ہر سرگرمی کو سیاسی رنگ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ گورنر نے عوام کے مفاد میں اپنی سرگرمیوں کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر گورنر ایک ذمہ دار شخصیت ہوتی ہے اور ان کی ہر سرگرمی کو جانبداری کے ساتھ دیکھنا درست نہیں ہے۔ ہم بحیثیت گورنر اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی سمجھتے ہیں اور ان کی انجام دہی سے واقف ہیں۔ گورنر نے ایک انگریزی روز نامہ کو انٹرویو دیتے ہوئے تلنگانہ میں جاری حکومت سے تنازعات پر اظہار خیال کیا۔ سوندرا راجن کے 2024 عام انتخابات میں مقابلہ کرنے اور سرگرم سیاست میں حصہ لینے کی اطلاعات ٹاملناڈو میں تیزی سے گشت کررہی ہیں۔ گورنر نے کہا کہ بھلے ہی نظریاتی اختلاف کیوں نہ ہو لیکن گورنر کے عہدہ کا احترام کیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں انہیں یوم جمہوریہ کے موقع پر پرچم کشائی سے محروم رکھا گیا۔ عملی سیاست میں واپسی سے متعلق سوال پر سوندرا راجن نے کہا کہ میں گورنر ہوں اور پوری سنجیدگی سے اپنے فرائض انجام دے رہی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ عوام کیلئے کچھ کروں۔ ریڈ کراس کی سرگرمیوں میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے قبائیلی عوام کے مسائل کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں مستقبل کے سیاسی منصوبہ پر تبصرہ کرنا نہیں چاہتی۔ گورنر نے ارکان اسمبلی کے خریدی معاملہ میں راج بھون کو گھسیٹنے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ٹی آر ایس کے ایک ترجمان نے سابق عہدیدار تشار کو اس تنازعہ میں ملوث کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ راج بھون میں اس طرح کی کوئی سرگرمیاں نہیں ہیں۔ گورنر نے پھر ایک مرتبہ ان کے فون ٹیاپ کئے جانے کا اندیشہ ظاہرکیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی بھی اپنے حدود سے تجاوز نہیں کیا ہے۔ مجھے اسمبلی کے خطاب سے محروم کیا گیا۔ میں نے چیف منسٹر کو آخری مرتبہ چیف جسٹس ہائی کورٹ کی حلف برداری تقریب میں دیکھا ہے۔ چیف منسٹر نے مرکز اور میرے خلاف موقف اختیار کیا ہے کیا یہ اس لئے ہے کہ میں ایک خاتون ہوں۔ ر