نفرت انگیز تقاریر : عرضی تبدیل کرنے سپریم کورٹ کی اجازت

   

نئی دہلی-17فروری (سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے سیاسی قائدین کی جانب سے کی جانے والی نفرت انگیز تقاریر کو روکنے کیلئے داخل کی گئی درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اخوت کو فروغ دیں اور آئینی اخلاقیات کی پابندی کرتے ہوئے باہمی احترام کی بنیاد پر انتخابات لڑیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت، جسٹس بی وی ناگارتنا اور جسٹس جومالیہ باگچی پر مشتمل بنچ آئی ایم سی آر کی جانب سے دائر کردہ عرضی کی سماعت کررہی تھی جس میں آئینی عہدوں پر فائز افراد کی جانب سے ’’غیر آئینی اور نامناسب‘‘ تقاریر کو روکنے کے لیے رہنما خطوط وضع کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ یہ عرضی حالیہ بیانات کے پس منظر میں دائر کی گئی، جن میں آسام کے چیف منسٹر ہیمنت بسوا سرما کی تقاریر اور سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو شامل ہے، جس میں وہ اقلیتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل نے موقف اختیار کیا کہ صورتِ حال ’’انتہائی زہریلی‘‘ ہوتی جا رہی ہے اور عدالت کو مداخلت کرنی چاہیے۔ تاہم چیف جسٹس نے نشاندہی کی کہ عرضی میں مخصوص طور پر ایک ہی فرد کے بیانات کا حوالہ دیا گیا ہے، جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ درخواست کسی خاص شخصیت کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اس پر کپل سبل نے عدالت کو یقین دلایا کہ وہ عرضی میں ترمیم کر کے اسے وسیع آئینی اصولوں تک محدود کر دیں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اس سنجیدہ مسئلے پر غور کرنے کے لیے تیار ہے، مگر عرضی غیر جانبدار اور معروضی انداز میں دائر کی جانی چاہیے۔ جسٹس ناگارتھنا نے ریمارکس دیے کہ ’’ہر طرف سے ضبط و تحمل ضروری ہے‘‘ اور سوال اٹھایا کہ اگر رہنما اصول جاری بھی کر دیے جائیں تو کیا ان پر عمل درآمد یقینی ہوگا؟عدالت نے دو ہفتوں کے لیے سماعت ملتوی کرتے ہوئے درخواست گزاروں کو نئی اور ترمیم شدہ عرضی داخل کرنے کی اجازت دے دی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ درخواست غیر جانبدارانہ انداز میں پیش کی جائے۔