نوجوانوں کا احتجاج ‘ میڈیا کی بد دیانتی

   

کان سنتے نہیں مظلوم کی آواز کبھی
ظلم کی جبر و تشدد کی طرفداری ہے
کاکروچ جنتا پارٹی کے بیانر تلے ملک کے نوجوان تعلیمی شعبہ میں جاری بدعنوانیوں اور طلباء کے مستقبل سے کھلواڑ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کے احتجاج کے چار دن پورے ہورہے ہیں ۔ وہ چار دن سے لگاتار دہلی کے جنتر منتر پر بیٹھے ہوئے ہیں اور پرامن احتجاج کا سلسلہ چل رہا ہے ۔ ان احتجاجی نوجوانوں میں اکثریت طلباء برادری کی ہے ۔ اس کے باوجود نہ ملک کی حکومت پر کوئی اثر ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور نہ ہی ملک کی میڈیا نوجوانوں کے سا احتجاج کو ملک کے سامنے پیش کرنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرنے تیار ہے ۔ حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کے مسائل کو سنے اور ان کی خدشات کو دور کرے ۔ انہیں طمانیت دے تاہم حکومت بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنے تیار نہیں ہے اور نہ ہی ملک کا میڈیا حکومت کی خوشنودی حاصل کرنے اس احتجاج کو ملک کے سامنے پیش کرنے کو تیار ہے ۔ یہ صورتحال ملک کیلئے اچھی نہیں کہی جاسکتی ۔ نیٹ پرچہ کے افشاء ‘ 18 طلباء کی خودکشی اور دیگر امتحانات اور تعلیمی شعبہ میں بدعنوانیوں کے خلاف یہ احتجاج کیا جا رہا ہے ۔ ان نوجوانوں کا کسی سیاسی پارٹی سے تعلق نہیں ہے ۔ نہ کسی سیاسی پارٹی کے قائدین نے ان کی تائید کا اعلان کیا ہے ۔ اس کے باوجود حکومت کی جانب سے اس احتجاج کو ختم کروانے کی کوئی کوشش نہیں ہو رہی ہے اور نوجوانوں کے ساتھ کسی نے بات چیت کو بھی ضروری نہیں سمجھا ہے ۔ ان نوجوانوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جا رہا ہے جو ملک کی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ گذشتہ ایک دہے سے زائد عرصہ سے ہو رہا ہے ۔ حکومت کسی کی بات سننے اور اس پر غور کرنے کیلئے تیار ہی نہیں ہے اور وہ اپنے اقتدار کے زعم میں ہی مبتلا رہتے ہوئے کام کر رہی ہے ۔ پولیس کی جانب سے الٹا احتجاجیوں کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوششیں ضرور ہو رہی ہیں ۔ احتجاج کیلئے پہونچنے والے طلباء کی شناخت معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور آدھار کارڈ طلب کیا جا رہا ہے ۔
طلباء کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان اپنے عہدہ سے استعفی پیش کریں۔ تعلیمی شعبہ میں بدعنوانیاں اور امتحانی پرچہ جات کا افشاء نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق مسئلہ ہے ۔ اس کے باوجود حکومت اس پر توجہ دینے کو تیار نہیں ہے اور نہ ہی مرکزی وزیر خودا س معاملے میں آگے آ کر کوئی بیان دینے کیلئے تیار دکھائی دے رہے ہیں۔ جس طرح اپوزیشن کے مطالبات اور اس کی تجاویز کو حکومت کی جانب سے گذشتہ 12 برس سے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے اور اپوزیشن کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے اسی طرح کا رویہ ملک کے نوجوانوں کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے اور نوجوانوں کے احتجاج کی کوئی فکر و پرواہ حکومت کو نہیںرہ گئی ہے ۔ نوجوانوں کے مسائل پر توجہ دینے اور ان کی بات سننے کی بجائے ایسا لگتا ہے کہ حکومت اپوزیشن جماعتوں کا صفایا کرنے کی مہم پر زیادہ توجہ دے رہی ہے ۔ کہیں ترنمول کانگریس میں انحراف کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے تو کہیں شیوسینا ادھو ٹھاکرے کے ارکان پارلیمنٹ کو توڑنے کی منظوری دی جا رہی ہے ۔ کہیں کسی پارٹی کو دھمکایا جا رہا ہے تو کہیں کسی پارٹی سے کہا جا رہا ہے کہ اب انحراف ان کی پارٹی میں کروایا جائے گا ۔ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور یہ ملک کی جمہوریت کیلئے اچھی علامت ہرگز نہیں ہے ۔ ملک کے نوجوانوں کے مسائل پر توجہ دینا اور ان کی بات سننا حکومت کی ذمہ داری ہے جو پوری نہیں کی جا رہی ہے ۔
جس طرح حکومت اس احتجاج کو نظرانداز کر رہی ہے اسی طرح سے ملک کا میڈیا بھی حکومت کے تلوے چاٹنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھتے ہوئے اس احتجاج کی تشہیر سے تک گریز کر رہا ہے اور پیشہ ورانہ بد دیانتی کا مظاہرہ کر رہا ہے ۔ میڈیا جس طرح سیاسی معاملات میں اپوزیشن کو کوئی موقع فراہم نہیں کرتا اسی طرح اس احتجاج کو میڈیا میں بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ حکومت اور میڈیا دونوں ہی کو سمجھنا چاہئے کہ ملک اور ملک کے مستقبل کے تئیں ان کی ذمہ داری کیا ہے اور وہ اس ذمہ داری کو پورا کرنے کو کیوں تیار نہیں ہیں ۔ ملک کے عوام اس معاملے میں حکومت اور میڈیا دونوں سے جواب چاہتے ہیں۔