نکہت زرین و محمد سراج کا ڈی ایس پی عہدہ پر تقرر : ریونت ریڈی

   

اسمبلی میں قانون میں ترمیم، دونوں کھلاڑیوں کی خدمات کی ستائش ، حکومت کے فیصلہ کا خیرمقدم
حیدرآباد 2 اگست (سیاست نیوز) حکومت نے باکسنگ اور کرکٹ میں دنیا بھر میں تلنگانہ کا نام روشن کرنے والے اسپورٹس شخصیتوں نکہت زرین اور محمد سراج کو گروپ I عہدہ پر تقرر کیلئے قانون میں ترمیم کو منظوری دی ہے۔ سرکاری ملازمتوں میں تقررات سے متعلق ترمیمی قانون آج منظور کیا گیا جس کے تحت نکہت زرین اور محمد سراج کو گروپ I کے تحت ڈی ایس پی عہدہ پر فائز کیا جائے گا۔ اپوزیشن پارٹیوں کی تائید سے ترمیم کو منظوری دی گئی۔ حکومت نے اپنے بیان میں باکسنگ میں نکہت زرین اور کرکٹ میں محمد سراج کے کارناموں کا ذکر کیا۔ نکہت نے کئی بین الاقوامی مقابلوں میں پہلا رینک حاصل کیا جبکہ محمد سراج 13 سال بعد ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی فاتح ہندوستانی کرکٹ ٹیم کا حصہ رہے۔ کابینہ نے دونوں کو گروپ I جائیداد کے تحت ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ۔ تقررات سے متعلق موجودہ قانون کے تحت پولیس فائرنگ، بم دھماکہ، فرقہ وارانہ تشدد، انتہا پسندوں کے تشدد اور ایس سی ایس ٹی مظالم سے متعلق کیسیس کے متاثرین کو روزگار کی فراہمی کی گنجائش ہے۔ قانون میں اسپورٹس مین کو تقرر کی گنجائش نہیں تھی لہذا حکومت نے موجودہ قانون میں ترمیم کرکے نکہت اور محمد سراج کے تقرر کی راہ ہموار کی ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ایوان میں کہاکہ طلبہ کو صرف تعلیم کیلئے دباؤ بنانے سے وہ اسپورٹس کی سرگرمیوں سے دور ہوچکے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ نکہت زرین اور محمد سراج کو حکومت نے ڈی ایس پی عہدہ کے علاوہ امکنہ کیلئے 600 گز اراضی الاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ نکہت زرین گرائجویٹ ہیں اور وہ ڈی ایس پی عہدہ کی اہلیت رکھتی ہیں جبکہ محمد سراج صرف انٹر پاس ہیں لیکن حکومت نے قانون میں رعایت دے کر اُنھیں ڈی ایس پی مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قبل ازیں ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے بل پیش کرکے ترمیم کی وجوہات سے واقف کرایا۔ اُنھوں نے کہاکہ عموما محکمہ جات میں تقررات پبلک سرویس کمیشن، سلیکشن کمیٹی، ایمپلائمنٹ ایکسچینج کے ذریعہ کئے جاتے ہیں لیکن بعض معاملات میں حکومت کو شرائط میں ترمیم و تقررات کا اختیار ہے اور اِسی کا نکہت زرین اور محمد سراج کے تقرر کے معاملہ میں استعمال کیا گیا۔ بی آر ایس کے کے ٹی آر، کوشک ریڈی، مجلس کے اکبر اویسی ‘ماجد حسین، بی جے پی کے ہریش بابو، سی پی آئی کے سامبا سیوا راؤ، کانگریس کے راج ٹھاکر، ڈی ناگیندر نے حکومت کے فیصلے کی تائید کی۔ کئی ارکان نے اپنے علاقوں کے کھلاڑیوں کے نام پیش کرکے حکومت کی جانب سے حوصلہ افزائی کی درخواست کی۔ 1