نیشنل ہیرالڈ کیس میں چیف منسٹر کا نام شامل ہونے سے کرپشن آشکار : کے ٹی آر

   

’’تلنگانہ‘‘ کانگریس ہائی کمان کیلئے اے ٹی ایم میں تبدیل ، عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے نت نئے حربے
حیدرآباد۔ 23 مئی (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے ’’نیشنل ہیرالڈ کیس‘‘ میں چیف منسٹر تلنگانہ کا نام شامل ہونے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب دیکھنا یہ کہ مودی حکومت، ریونت ریڈی کے خلاف کارروائی کرتی ہے یا نہیں۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ ’’تلنگانہ‘‘ قومی کانگریس پارٹی کیلئے اے ٹی ایم میں تبدیل ہوگیا ہے۔ ای ڈی کی چارج شیٹ میں چیف منسٹر کا نام شامل ہونے سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ تلنگانہ حکومت کی بدعنوانیاں بے نقاب ہوچکی ہیں۔ اقتدار کی خاطر چیف منسٹر نے کانگریس پارٹی کے سینئر قائدین کو کروڑہا روپئے دیا ہے۔ سینکڑوں کروڑ روپئے کے دہلی کانگریس قائدین کو دیتے ہوئے چیف منسٹر کا عہدہ حاصل کیا ہے۔ ینگ انڈیا اداروں میں عطیے حاصل کرتے ہوئے اہم شخصیتوں کو عہدے دینے کا لالچ دیا جارہا ہے اور نوٹوں کے تھیلے دہلی روانہ کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے تلنگانہ معاشی بحران کا شکار ہوچکا ہے۔ ای ڈی کے کیس میں چیف منسٹر پکڑے گئے ہیں۔ اب چیف منسٹر ریاستی وزیر پی سرینواس ریڈی کی طرح بی جے پی کے سرکردہ قائدین کا آشیرواد حاصل کرتے ہوئے بچنے کی کوشش کریں گے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ ای ڈی صرف چارج شیٹ میں نام شامل کرنے کا کام کرے گی یا پھر چیف منسٹر کو پوچھ تاچھ کیلئے بھی طلب کرے گی اور جو اسکام کیا ہے اس کو منظر عام پر لا رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی اندرونی اختلافات کا شکار ہوچکی ہے۔ چیف منسٹر اپنی کرسی بچانے کیلئے کنٹراکٹرس سے کمیشن وصول کرتے ہوئے دہلی کو خطیر رقومات روانہ کررہے ہیں۔ اسکام میں بے نقاب ہوجانے کے بعد چیف منسٹر اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے روزانہ نئی نئی سازشیں کررہے ہیں۔ چیف منسٹر کے سسر ایس پدما ریڈی نے خود کہا ہے کہ کالیشورم میں کوئی کرپشن نہیں ہوا ہے۔ ریاستی وزیر کونڈا سریکھا نے خود اعتراف کیا ہے کہ کوئی وزیر کمیشن کے بغیر فائیلس پر دستخط نہیں کررہا ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس حکومت ہر محاذ پر ناکام ہوچکی ہے۔ نت نئے طریقوں سے عوام کو الجھاتے ہوئے اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کررہی ہے۔ 2