نیواورلینز حملے کے بعد ایمرجنسی نافذ کردی گئی

   

دہشت گرد تنظیم کے رول کی تحقیقات جاری۔ شہر کو دوبارہ محفوظ بنانے گورنر لوزیانا کا عزم

نیویارک : امریکہ کے شہر نیو اورلینز میں گزشتہ روز ہونے والے کار حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 15 ہوگئی ہے۔نیو اورلینز کیکورْونر ڈوائٹ میک کینا نے حملے کے بارے میں تازہ ترین معلومات فراہم کیں جس میں پہلے اعلان کیا گیا تھا کہ 10 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اپنے تحریری بیان میں مک کینا نے کہا کہ بوربن اسٹریٹ پر حملے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 15 ہوگئی ہے اور بتایا کہ پوسٹ مارٹم مکمل ہونے اور ان کے رشتہ داروں کے انٹرویو کے بعد مرنے والوں کی شناخت کا اعلان کیا جائے گا۔ امریکی حکام نے حملہ آور کی شناخت ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے 42 سالہ امریکی شہری شمس الدین جبار کے طور پر کی۔اس واقعہ کے بارے میں ایک پریس کانفرنس میں، حکام نے مطلع کیا کہ تحقیقات کو دہشت گرد حملے کے طور پر انجام دیا جا رہا ہے. حملہ آور کی گاڑی میں دہشت گرد تنظیم داعش کا نام نہاد جھنڈا ملنے کی وضاحت کرتے ہوئے حکام کا کہنا تھا کہ وہ اس شخص کے دہشت گرد تنظیم سے تعلق کی تحقیقات کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کے رابطوں کی شناخت کرنے کی کوششیں جاری ہیں، وہ عوام کی حمایت کے منتظر ہیں جبکہ علاقے سے پکڑے گئے دو دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔ دریں اثنا لوزیانا ریاست کے گورنر جیف لینڈری نے کہا کہ نیو اورلینز میں حملے کے بعد وفاقی، ریاستی اور مقامی شراکت داروں نے ہنگامی حالت کا اعلان کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ شہر دوبارہ محفوظ رہے اور اس تناظر میں ملٹری پولیس بھی تعینات کی گئی ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے حملے کو ‘قابل نفرت’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں، انہوں نے حملہ آور کو ہلاک کرنے والے پولیس اہلکاروں کا بھی شکریہ ادا کیا۔امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ یہ حملہ بیرون ملک سے آنے والے مجرم نے کیا تھا۔ٹرمپ نے اپنے ‘ٹروتھ سوشل’ سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کہا کہ جب میں نے کہا کہ بیرون ملک سے آنے والے مجرم مقامی مجرموں سے کہیں زیادہ بدتر ہیں تو ڈیموکریٹس اور جعلی نیوز پریس نے اعتراض کیا لیکن یہ سچ ہے۔