کھٹمنڈو/ رکسول: ہندوستان کا سرحدی ملک نیپال سترہ سال کے جمہوری نظام کے دوران پیدا ہونے والی سیاسی و اقتصادی عدم استحکام اور بدعنوانی سے اس قدر ناراض ہوا کہ وہ ایک بار پھر پرتشدد تحریکوں کے دور میں واپس آگیا۔سیاسی، معاشی عدم استحکام اور بدعنوانی سے ناراض نیپال کے عوام بادشاہت کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ دارالحکومت کھٹمنڈو کی سڑکیں میدان جنگ میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ اس سے پہلے پرتشدد تحریک کا ایک اور دور چل چکا تھا۔ پھر نیپال میں جمہوریت کے قیام کی پرتشدد تحریک کی آگ ڈیڑھ دہائی تک جلتی رہی۔نیپال میں دو ماہ بعد 28 مئی کو 18 واں یوم جمہوریہ منایا جانا ہے ۔ ایسے میں ایک فطری سوال پیدا ہوتا ہے کہ جمہوری نظام کے درمیان بادشاہت کی واپسی کا رونا کیوں ہے ؟ صرف 17 سالوں میں لوگوں کے جمہوری نظام سے مایوس ہونے کی بہت سی وجوہات میں سے ایک سیاسی عدم استحکام ہے ۔نیپال میں سال 2008 میں ایک نیا آئین نافذ کرکے ایک جمہوری وفاقی نظام حکومت قائم کیا گیا۔