مہلوکین میں 5ہندوستانی بھی شامل ،شدید زخمی 2 مسافروں کو بچالیا گیا
کھٹمنڈو:نیپال میں پوکھرا ایئرپورٹ کے قریب ایک طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے جس میں 72 افراد سوار تھے، پولیس نے بتایا کہ کم از کم 68 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے۔ میڈیا کے مطابق کٹھمنڈو سے سیاحتی شہر پوکھرا جانے والی نیپال کی یٹی ایئرلائنز کی پرواز لینڈنگ کے وقت گر کر تباہ ہوگئی جس کے بعد طیارے میں آگ بھڑک اٹھی۔جہاز میں 68 مسافر سوار تھے جن میں کم از کم 15 غیر ملکی شہری اور عملے کے 4 ارکان شامل تھے۔ شدید طور پر زخمی2 مسافروں کو بچالیا گیا ہے جن کو علاج کیلئے فوری ہاسپٹل منتقل کیا گیا جن سے متعلق کہا جارہا ہے کہ وہ نیپالی ہیں ۔دیگر مسافروں کی تلاش کا کام جاری ہے تاہم تاریکی کے باعث یہ کام روک دیا گیا جو پیر کی صبح پھر شروع ہوگا ۔ نیپال کے وزیر اعظم پْشپا کمل دہل نے اپنی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا اور ریاستی ایجنسیوں پر زور دیا کہ وہ امدادی کارروائیوں میں سرگرم ہوجائیں۔کابینہ نے سابق شہری ہوا بازیسکریٹری ناگیندر کی زیرقیادت 5 رکنی تحقیقاتی کمیشن بھی تشکیل دیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق طیارے میں سوار مسافروں میں سے 53 نیپالی تھے، 5 ہندوستانی، 4 روسی اور 2 کوریائی مسافر سوار تھے جبکہ آئرلینڈ، آسٹریلیا، ارجنٹینا اور فرانس سے بھی ایک، ایک مسافر سوار تھا۔بتایا گیا ہے کہ مہلوک 5 ہندوستانیوں میں 4 پوکھران کے سیاحتی مقام پر پیراگیلاڈنگ میں حصہ لینا چاہتے تھے ۔ مہلوک 5 ہندوستانیوں کی ابھیشیک کشواہا (25) ، بشال شرما (22) ، انیل کمار راج بھر (27) ، سونو جیسوال (35) اور سنجئے جیسوال کی حیثیت سے شناخت کی گئی ہے ۔پولیس نے بتایا کہ طیارہ گر کر تباہ ہونے کے بعد کم از کم 68 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے۔ نیپال کی فضائی صنعت نے حالیہ برسوں میں عروج حاصل کیا ہے، یہ طیارے سامان سمیت غیرملکی ٹریکرز، کوہ پیماؤں اور دیگر مسافروں کو ایسے علاقوں تک لے کر جاتے ہیں جہاں تک زمینی رسائی مشکل ہوتی ہے۔تاہم یہ ناکافی تربیت اور ناقص دیکھ بھال کی وجہ سے حفاظتی مسائل سے دوچار ہے، یورپی یونین نے حفاظتی خدشات کے پیش نظر تمام نیپالی جہازوں پر اپنی فضائی حدود استعمال کرنے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔نیپال میں دنیا کے سب سے دور دراز اور مشکل رن وے بھی ہیں جن کے اطراف میں برف پوش چوٹیاں ہیں اور ماہر پائلٹس کو بھی مشکلات درپیش رہتی ہیں۔