مہلوکین کی تعداد 797 سے تجاوز‘تقریباً3000 افرادہنوز لاپتہ ‘حکومت کی چوکسی
کھٹمنڈو۔30؍اگست ( ایجنسیز ) نیپال میں حکام نے اتوار کو مزید سیلاب آنے کے خدشے کے پیش نظر شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے رہائشیوں کو انتہائی چوکس رہنے کی ہدایت کی ہے۔حالیہ سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد 797 سے تجاوز کر گئیہے جبکہ تقریباً3000 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔میڈیا کے مطابق یہ وارننگ نیپال اور تبت کی سرحد پر واقع بھوٹے کوشی دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے کے بعد جاری کی گئی ہے۔اتوار کی صبح لوگوں کے موبائل فونز پر سیلاب سے متعلق انتباہی پیغامات بھیجے گئے، جبکہ امدادی ٹیمیں کھٹمنڈو کو بدترین متاثرہ علاقوں میں سے ایک سے ملانے والی اہم شاہراہ سے ملبہ ہٹانے میں مصروف رہیں۔گلچھی کے قصبے میں شہریوں کا ایک گروپ قریبی پل پر نسبتاً محفوظ اور بلند مقام پر کھڑا ہو کر دریا کے تیز بہاؤ کو دیکھتا رہا۔ شہریوں نے ان بڑے بڑے پتھروں کی جانب اشارہ کیا جو گزشتہ سیلاب کے دوران پانی کے ساتھ بہہ کر آئے تھے، جبکہ پانی کے اوپر بنے معلق پل پر موجود افراد کو سیٹیوں کے ذریعے وہاں سے ہٹنے کی تنبیہ کی گئی۔دریا کے کنارے کئی مکانات، گاڑیاں اور ٹریکٹر موٹی سرمئی اور بھورے رنگ کی کیچڑ میں دبے ہوئے اب بھی دکھائی دیتے ہیں جس نے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں کے پورے دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ دریا کے کنارے موجود چاول کے کھیتوں کی سیڑھی نما زمین بھی لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آئی، جس کے باعث کھیتوں کے کچھ حصے دریا میں بہہ گئے ہیں۔چینی حکام کے مطابق تبت میں 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 246 افراد لاپتہ ہیں جن میں سو کا تعلق نیپال سے ہے جبکہ بقایا لاپتہ افراد کا تعلق دیگر ایک درجن سے زائد ممالک سے ہے۔نیپال میں نئی سیلابی وارننگ چینی حکام کی جانب سے نیپالی حکام کو بالائی علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے سے آگاہ کیے جانے کے بعد جاری کی گئی ہے۔
سیلاب سے متاثرہنیپال کیلئے امریکہ کی 36 لاکھ ڈالر سے زیادہ امداد
واشنگٹن، 30 اگست (یواین آئی) نیپال-تبت سرحد کے قریب گلیشیئر ٹوٹنے سے آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد امریکہ نے نیپال کے لیے 36 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی انسانی امداد کا اعلان کیا ہے ۔ اس آفت میں اب تک تقریباً800افراد کی موت ہو چکی ہے جبکہ تقریباً 3,000 افراد اب بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔امریکہ کی جانب سے اعلان کردہ امداد میں آفت سے متاثرہ 10,000 تک خاندانوں کے لیے ہنگامی خوراک کی امداد شامل ہے ۔امریکی محکمہ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ امریکی شہریوں کی حفاظت اس کی اولین ترجیح ہے ۔ محکمہ کے مطابق، نیپال اور چین میں موجود امریکی سفارت خانے مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر امریکی شہریوں کی مدد اور راحت کے کاموں میں تعاون کر رہے ہیں۔
یہ آفت بدھ کے روز ہمالیہ میں ایک گلیشیئر کا ایک حصہ ٹوٹنے کے بعد آئی۔ گلیشیئر ٹوٹنے سے بھاری مقدار میں پانی اور ملبہ تیزی سے وادیوں میں بہا، جس سے نیپال-تبت سرحد سے ملحقہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔آفت میں غیر ملکی سیاح بھی متاثر ہوئے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق، لاپتہ افراد میں تقریباً 100 امریکی شہری شامل ہیں۔ نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق، ملک میں کل 589 غیر ملکی شہریوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے ۔ وہیں، نیپال ٹورزم بورڈ کے مطابق اب تک 261 غیر ملکی شہریوں کو محفوظ باہر نکالا جا چکا ہے ۔لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر راحت اور ریسکیو آپریشن چلایا جارہا ہے ۔ سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہیلی کاپٹر اور ہنگامی ٹیمیں اس مہم میں مصروف ہیں۔ تاہم، دشوار گزار پہاڑی علاقوں، خراب موسم اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے امدادی اور بچاؤ کے کاموں میں کافی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔آفت کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں کو کھانے ، پناہ گاہ، طبی امداد اور دیگر ضروری سامان کی فوری ضرورت ہے ۔ ایسے میں امریکی امداد نیپال کے سامنے کھڑے انسانی بحران سے نمٹنے کی بین الاقوامی کوششوں کا حصہ ہے ۔
نیپال کیلئے یو اے ای نے 83 ٹن امدادی سامان بھیجا
دبئی، 30 اگست (یواین آئی/اسپوتنک) متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے نیپال میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی مدد کیلئے 83 ٹن ہنگامی انسانی امداد اور ضروری سامان طیارہ سے روانہ کیا ہے ۔ یو اے ای نے اس سے پہلے جمعرات کو نیپال میں آنے والے شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ لوگوں کے لیے ایک کروڑ امریکی ڈالر کی ہنگامی انسانی امداد دینے کا وعدہ کیا تھا۔ نیپال کے شمالی علاقوں میں 26 اگست کی صبح اچانک سیلاب آ گیا تھا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق، اس قدرتی آفت میں 700 سے زائد افراد کی موت ہو چکی ہے جبکہ 2,000 سے زیادہ لوگ اب بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔
راحت اور بچاؤ ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو محفوظ باہر نکالنے اور ضروری امداد پہنچانے میں مصروف ہیں۔ چین کی طرف سے تیز رفتار سے آنے والا پانی بھوٹے کوشی ندی میں جا ملا، جس کے بعد ندی میں پانی کی سطح اچانک بڑھ گئی اور آس پاس کے علاقوں میں تباہی مچ گئی۔