لائلا بیچتولا
’’کسی قوم کو تباہ کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ اسے اپنی تاریخ کے بارے میں اس کی اپنی سمجھ سے محروم کر دیا جائے اور اسے مٹا دیا جائے۔‘‘”اگر مجھے مرنا ہی ہے تو تمہیں زندہ رہنا ہوگا، تاکہ میری کہانی سنا سکوں۔’’ہم اس دنیا میں اس لیے نہیں آئے کہ اپنے وجود کے لیے اجازت مانگیں۔‘‘دنیا کے پاس فہرستیں ہیں، لیکن صرف ایک نام ہے۔میں لغواط Laghouat سے لکھ رہی ہوں۔ اس شہر سے جس میں فرانس نے دسمبر 1852ء میں قتلِ عام کیا تھا اور اس کے افسران کو اس پر اعزازات سے نوازا تھا۔ اس سرزمین سے جہاں صرف ایک ہفتے کے دوران میرے شہر کے 6,000 باشندوں میں سے اندازاً 3,000 افراد کرنل پلیسیے کی فوج کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ یہی پلیسیے تھا جس نے دو سال قبل دہرا غاروں میں غاروں کے دہانوں پر آگ جلانے کا حکم دیا تھا، یہاں تک کہ اندر پناہ لیے ہوئے مرد، عورتیں اور بچے دم گھٹنے سے ہلاک ہوگئے۔میں جانتی ہوں کہ جب کوئی ریاست کسی قوم کو قتل کرکے اسے تہذیب کا نام دیتی ہے تو اس کی زبان کیسی ہوتی ہے۔ میں اس زبان کو اس کی تمام بولیوں سمیت جانتی ہوں۔ میں گزشتہ تیس برس سے اس کا مطالعہ کر رہی ہوں۔میں یہ اس لیے لکھ رہی ہوں کیونکہ دنیا کے پاس سوچ سمجھ کر اختیار کی جانے والی خاموشی کے لیے وقت ختم ہوچکا ہے۔
ہر سال امریکی محکمہ خارجہ غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں (Foreign Terrorist Organization)کی فہرست جاری کرتا ہے۔ یورپی یونین بھی اپنی فہرست برقرار رکھتی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اپنی مشترکہ فہرست رکھتی ہے۔ ان سب نے مل کر سیکڑوں تنظیموں کو نامزد کر رکھا ہے: ملیشیائیں، سیلز، نیٹ ورکس اور محاذ—ایسے نام جو انٹیلی جنس رپورٹس اور قانونی فردِ جرم میں بار بار آتے ہیں، اور ایسے نام جنہیں صاحل سے ہندوکش تک ڈرون حملوں کا جواز بنایا جاتا ہے۔ دہشت گردی کی نامزدگی کا یہ پورا نظام وسیع، انتہائی منظم اور مسلسل فعال ہے۔لیکن ان تمام فہرستوں میں ایک نمایاں چیز غائب ہے۔ دہشت گرد ریاستوں کی کوئی فہرست موجود نہیں۔ یہ زمرہ سرکاری طور پر موجود ہی نہیں ہے۔
یہ صرف ایک وجہ سے موجود نہیں: کیونکہ ایسی فہرست بنانا اس ایک ریاست کا نام لینے کا تقاضا کرے گا جس نے تاریخ میں کسی بھی غیر ریاستی گروہ کے مقابلے میں زیادہ دہائیوں تک، زیادہ شہری آبادیوں کے خلاف، زیادہ ادارہ جاتی تحفظ اور زیادہ سوچے سمجھے استثنیٰ کے ساتھ کارروائیاں کی ہیں۔وہ ریاست اسرائیل ہے۔یہ کوئی جذباتی یا اشتعال انگیز تحریر نہیں، بلکہ احتساب ہے۔یہ کوئی اشتعال انگیز بحث نہیں ہے، بلکہ احتساب ہے۔ یہ حقائق، قانون اور خود دنیا کے اداروں کے دستاویزی نتائج پر مبنی ہے—اور اس یقین سے جنم لیتی ہے کہ کسی حقیقت کو جانتے ہوئے بھی اسے تسلیم کرنے اور نام دینے سے انکار کرنا، موجودہ صورتِ حال میں، جرم میں ایک طرح کی شرکت کے مترادف ہے۔وہ تعریف جو خود مذمت کا باعث بنتی ہے۔آئیے خود قانون سے آغاز کرتے ہیں۔ان ہی قانونی اصولوں اور دستاویزات سے جنہیں مغربی حکومتوں نے تحریر کیا، منظور کیا اور کئی دہائیوں سے دوسروں کے خلاف منتخب انداز میں نافذ کیا ہے۔
امریکی قانون ( United State Code) ،ٹائٹل 18، سیکشن 2331 کے تحت بین الاقوامی دہشت گردی سے مراد ایسے اقدامات ہیں جو انسانی جان کے لیے خطرناک ہوں اور جن کا مقصد شہری آبادی کو خوف زدہ کرنا یا مجبور کرنا، یا دھمکی یا جبر کے ذریعے کسی حکومت کی پالیسی پر اثر انداز ہونا ہو۔اسی طرح اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی دسمبر 1994ء کی قرارداد 49/60 میں دہشت گرد کارروائیوں کو ایسے مجرمانہ اقدامات قرار دیا گیا ہے جن کا مقصد یا ارادہ عام عوام، افراد کے کسی گروہ یا مخصوص افراد میں سیاسی مقاصد کے لیے خوف و دہشت کی کیفیت پیدا کرنا ہو۔ان تعریفوں کو سیاسی مصلحت کے بغیراور واشنگٹن، پیرس، برلن اور لندن کے اقتدار کے ایوانوں میں پائی جانے والی منتخب اکائیوں کے بغیرلاگو کریں تو نتیجہ رائے کا معاملہ نہیں رہتا۔ یہ منطق کا معاملہ بن جاتا ہے۔
شہری آبادیوں، اسپتالوں، اسکولوں، پانی کے بنیادی ڈھانچے، پناہ گزینوں کی پناہ گاہوں اور بازاروں کو جان بوجھ کر اور منظم طریقے سے نشانہ بنانا، اگر یہ غلطی یا الگ تھلگ واقعات کے طور پر نہیں بلکہ ایک دستاویزی، بار بار دہرائی جانے والی اور حکمتِ عملی کے تحت تشکیل دی گئی پالیسی کے طور پر کیا جائے، تو یہ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ محض استعارے کے طور پر نہیں، بلکہ قانونی طور پر دہشت گردی ہے اور وہ بھی عین انہی تعریفوں کے مطابق جو خود یہ حکومتیں وضع کرچکی ہیں۔
دہشت گرد تنظیم اور دہشت گرد ریاست کے درمیان فرق نوعیت کا نہیں بلکہ پیمانے، وسائل اور تحفظ کا ہے۔ ایک تنظیم بم نصب کرتی ہے، جبکہ ایک ریاست اسپتال پر دو ہزار پاؤنڈ وزنی بم گراتی ہے۔ ایک تنظیم تہہ خانوں میں چھپتی ہے۔ایک ریاست اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی روشنیوں کے درمیان بیٹھتی ہے اور اپنی مذمت کے خلاف ویٹو استعمال کرتی ہے۔ جرم وہی رہتا ہے؛ فرق صرف استثنیٰ کا ہے۔ اور بین الاقوامی قانون میں استثنیٰ کوئی تخفیفِ جرم کی صورتِ حال نہیں، بلکہ جرم کو مزید سنگین بنانے والا عنصر ہے۔شہریوں کے خلاف اسرائیل کا تشدد اتفاقی نہیں ہے۔ یہ نہ تو بدقماش یا بے قابو کمانڈروں کی کارروائی کا نتیجہ ہے اور نہ ہی جنگ کی دھند کا۔ یہ ایک منظم نظری? عمل ہے۔ اس کا ایک نام،in ایک دستورالعمل اور ایک ایسا سلسلہ? کمان ہے جو کابینہ کی میز تک پہنچتا ہے۔
فوجی نظریے میں اسے دہیہ نظریہ کہا جاتا ہے—جس کا نام بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے دہیہ کے نام پر رکھا گیا ہے، جسے اسرائیل نے 2006ء میں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا تھا۔ اس نظریے کے مصنف گادی آئزن کوٹ ہیں، جو اس وقت اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) کے شمالی کمان کے سربراہ تھے۔ اکتوبر 2008ء میں آئزن کوٹ نے ہارٹز کو ایک انٹرویو دیا، جس میں انہوں نے اس نظریے کو کسی بھی نتائج کی پروا کیے بغیر واضح انداز میں بیان کیا:’’ہم (کسی گاؤں])پر غیر متناسب طاقت استعمال کریں گے اور وہاں بڑے پیمانے پر نقصان اور تباہی پھیلائیں گے۔ ہمارے نقطہ نظر سے یہ شہری گاؤں نہیں بلکہ فوجی اڈے ہیںیہ کوئی سفارش نہیں ہے۔ یہ ایک منصوبہ ہے، اور اسے منظوری دی جا چکی ہے۔‘‘جنرل گادی آئزن کوٹ، ہارٹز، اکتوبر 2008ئان الفاظ کو دوبارہ پڑھیے۔ یہ میدانِ جنگ میں کوئی من مانی فیصلہ کرنے والے کمانڈر کی عجلت میں کی گئی کارروائی نہیں تھی۔ یہ ایک منصوبہ تھا۔ اسے منظوری دی گئی تھی۔ ریاستی سطح پر۔ اسے ایک اخبار میں شائع کیا گیا۔ اسے بلا کسی شرمندگی کے نافذ کیا گیا۔ اور امریکی حکومت کی جانب سے مسلسل اس کے لیے مالی مدد فراہم کی گئی۔
گادی آئزن کوٹ بعد میں اسرائیلی دفاعی افواج کے چیف آف اسٹاف بنے۔ اس کے بعد وہ اسرائیلی جنگی کابینہ میں بھی شامل ہوئے۔ اس نظریے سے دستبرداری اختیار نہیں کی گئی، بلکہ اسے فروغ دیا گیا۔ہنی بال ڈائریکٹو ایک ایسی مزید تاریک جہت سامنے لاتا ہے جو یہ واضح کرتی ہے کہ اسرائیل نہ صرف اپنے دشمنوں بلکہ اپنے ہی لوگوں کے ساتھ کس طرح پیش آتا ہے۔ اسرائیلی فوجی تحقیقات اور پارلیمانی تحقیقات سے تصدیق شدہ اس ہدایت کے تحت اسرائیلی فوجیوں کو اجازت دی گئی کہ وہ اسرائیلی فوجیوں کو پکڑے جانے سے روکنے کے لیے مہلک طاقت استعمال کریں، حتیٰ کہ اس کارروائی میں انہی فوجیوں کی جان چلی جائے۔
7 اکتوبر 2023ء کو اس ہدایت کو استعمال کیا گیا۔ اسرائیلی تحقیقاتی صحافت خصوصاً ہارٹزنے رپورٹ کیا کہ حماس کے حملے کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے نامعلوم تعداد میں اسرائیلی شہری اور فوجی ہلاک ہوئے، اس اصول کے تحت کہ گرفتاری یا قید، موت سے بھی بدتر ہے۔جو ریاست سیاسی شرمندگی سے بچنے کے لیے اپنے ہی شہریوں کو ہلاک کرتی ہے، اس نے محض دہشت گردی کا استعمال نہیں کیا۔ اس نے دہشت کو اپنی حکمرانی کی زبان اور طریق? کار بنا لیا ہے۔ وہ محض تشدد کو دوسروں تک منتقل نہیں کرتی بلکہ اسے اپنے نظام کا حصہ بنا چکی ہے۔وہ دستاویزی ریکارڈ جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔7 اکتوبر 2023ء سے اسرائیل نے غزہ میں ایک فوجی مہم جاری رکھی ہے، جسے بین الاقوامی قانون کے ماہرین، اقوام متحدہ کے عہدیداروں اور خود عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) نے ایسے الفاظ میں بیان کیا ہے جو دہشت گردی سے آگے بڑھ کر نسل کشی (Genocide) کے دائرے تک پہنچتے ہیں۔اس کے بعد پیش کیا جانے والا مواد محض الزامات کی فہرست نہیں ہے۔ یہ دستاویزی، تصدیق شدہ اور ادارہ جاتی تحقیقات و نتائج کا خلاصہ ہے، جو دنیا کے اپنے انسانی ہمدردی کے اداروں کے ریکارڈ اور محفوظ دستاویزات سے جمع کیے گئے ہیں