چیف منسٹر جگن موہن ریڈی کی منظوری، وقف بورڈ اور حج کمیٹی صدورنشین کا تقرر تعطل کا شکار
حیدرآباد۔13 ۔اگست (سیاست نیوز) چیف منسٹر آندھراپردیش وائی ایس جگن موہن ریڈی نے وجئے واڑہ میں حج ہاؤز کی تعمیر کے انتظامات کو جلد قطعیت دینے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے تین ایکر اراضی پر عصری سہولتوں سے آراستہ حج ہاؤز کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر امجد باشاہ کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ اراضی کی نشاندہی کرتے ہوئے تعمیری کاموں کے جلد آغاز کو یقینی بنائیں۔ آندھراپردیش میں حج ہاؤز کی تعمیر کا مسئلہ طویل عرصہ سے زیر التواء ہے۔ ابتداء میں کرنول ضلع میں تعمیر کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم عازمین حج کے لئے ایر پورٹ سے قربت اور امبارگیشن پوائنٹ کے پیش نظر وجئے واڑہ میں تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ۔ حکومت نے اقلیتی بہبود کی بیشتر اسکیمات کو جگن موہن ریڈی کے نام سے موسوم اسکیم میں شامل کردیا ہے جس کے تحت تمام طبقات کیلئے بجٹ یکساں طور پر جاری کیا جائے گا ۔ چیف منسٹر نے شادی خانوں کی تعمیر جلد مکمل کرنے محکمہ اقلیتی بہبود کو ہدایت دی۔ بتایا جاتا ہے کہ جن شادی خانوں کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے، وہاں خود ساختہ کمیٹیاں کرایہ کے رقومات حاصل کر رہی ہیں۔ حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت کمیٹیوں کی تشکیل کی ہدایت دی ہے تاکہ شادی خانوں کے انتظامات کی موثر نگرانی ہوسکے۔ چیف منسٹر نے اقلیتی اداروں کے صدورنشین کے تقررات کا اعلان کیا لیکن حج کمیٹی اور وقف بورڈ کے صدورنشین کے احکامات کی اجرائی روک دی گئی ہے۔ یہ دونوں ادارے مرکزی قانون کے تحت ہیں اور راست طور پر صدرنشین کا تقرر نہیں جاسکتا۔ حج کمیٹی اور وقف بورڈ میں مختلف زمروں سے تعلق رکھنے والے افراد کو بحیثیت رکن شامل کیا جاتا ہے اور ارکان متفقہ طور پر صدرنشین کا انتخاب کرتے ہیں۔ عہدیداروں کی جانب سے مرکزی قوانین کی وضاحت کے بعد دونوں اداروں کے صدورنشین کے احکامات کو روک دیا گیا ۔ اردو اکیڈیمی ، اقلیتی فینانس کارپوریشن اور کرسچن فینانس کارپورشن کے صدورنشین کے احکامات جاری کردیئے گئے اور ان میں سے دو نے عہدہ کا جائزہ حاصل کرلیا۔ بتایا جاتا ہے کہ آندھراپردیش میں 500 شادی خانوں کی تعمیر کا منصوبہ ہے ، ان میں سے 150 مکمل ہوچکے ہیں۔ حکومت نے 36 کروڑ روپئے تعمیری کاموں کے لیے منظور کرتے ہوئے محکمہ اقلیتی بہبود کے سکریٹری کو تعمیری کاموں کی نگرانی کی ہدایت دی ہے ۔۔