چنئی، 13 مئی (یو این آئی) تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کی قیادت والی تملگا ویتری کژگم (ٹی وی کے ) حکومت نے آج234رکنی اسمبلی میں اتحادی جماعتوں اور اے آئی اے ڈی ایم کے کے باغی اراکینِ اسمبلی کے تعاون سے آسانی سے اعتماد کا ووٹ جیت کر اپنی اکثریت ثابت کر دی۔وجے کو یہ کامیابی اس وقت ملی جب 59 اراکین پر مشتمل اہم اپوزیشن جماعت ڈی ایم کے نے ایوان سے واک آؤٹ کیا، جبکہ اے آئی اے ڈی ایم کے کی اتحادی چار رکنی پٹالی مکل کچی (پی ایم کے ) اور بی جے پی نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔وجے کی جانب سے اپنی حکومت پر اعتماد کے اظہار کی قرارداد پیش کرنے اور مختلف جماعتوں کے قائدین کے خطاب کے بعد قرارداد پر ووٹنگ کرائی گئی۔ اگرچہ دو متبادل موجود تھے ، لیکن اسپیکر جے سی ڈی پربھاکر نے وائس ووٹ کے بجائے حکومت کی حمایت کرنے والوں کی گنتی کرنے کا انتخاب کیا۔ایوان کے 232 اراکین میں سے 171 اراکین موجود تھے ۔ وجے نے ایک نشست سے استعفیٰ دے دیا تھا اور مدراس ہائی کورٹ نے ٹی وی کے کے ایک ایم ایل اے کو اعتماد کے ووٹ میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔ ایوان میں وجے نے اے آئی اے ڈی ایم کے کے باغی اراکین سمیت 144 ارکان کی حمایت کے ساتھ آسانی سے فلور ٹسٹ جیت لیا، جبکہ اس کی مخالفت میں 22 ووٹ پڑے اور پانچ ارکان غیر جانبدار رہے ۔قرارداد کی حمایت کرنے والے 144 اراکینِ اسمبلی میں ٹی وی کے کے 104 اراکین (اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور عدالت کی طرف سے روکے گئے ایک رکن کے علاوہ)، پانچ حمایتی جماعتوں کے 13 اراکین، اے ایم ایم کے کا ایک اور بقیہ اے آئی اے ڈی ایم کے کے باغی اراکین شامل تھے ۔وجے کی قیادت والی چار دن پرانی حکومت کیلئے یہ پہلی اور شاندار جیت ہے ، جن کی پارٹی 108 اراکین کے ساتھ سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری تھی لیکن اکثریت سے پیچھے تھی۔ گورنر آر وی آرلیکر کی جانب سے حکومت بنانے کی دعوت دیے جانے کے بعد انہوں نے ہدایات کے مطابق مطلوبہ تعداد جمع کر کے اپنی طاقت ثابت کی ہے۔
وجے کے خصوصی ڈیوٹی افسر کے طور پر
رکی رادھن کی نامزدگی منسوخ
چنئی، 13 مئی (یو این آئی) تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اور تملگا ویٹری کزگم (ٹی وی کے ) کے صدر سی جوزف وجے نے اپوزیشن کی شدید مخالفت کے بعد چہارشنبہ کے روز اپنے ذاتی نجومی رکی رادھن پنڈت ویٹری ویل کی خصوصی ڈیوٹی افسر (او ایس ڈی۔سیاست) کے عہدہپر کی گئی تقرری منسوخ کر دی۔اس تقرری پر اہم اپوزیشن جماعتوں دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے )، آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کزگم (اے آئی اے ڈی ایم کے ) اور یہاں تک کہ حکومت کی حمایت کرنے والی اتحادی جماعتوں نے بھی سخت ردِعمل ظاہر کیا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے یہ فیصلہ تمل ناڈو اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے فوراً بعد لیا۔ گورنر آر وی ارلیکر کی ہدایت کے مطابق اقتدار سنبھالنے کے تین دن کے اندر اکثریت ثابت کرنے کے بعد حکومت نے ویٹری ویل کی تقرری منسوخ کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ اسمبلی میں اعتماد کے ووٹ پر بحث کے دوران دیشیہ مرپوکو دراوڑ کزگم (ڈی ایم ڈی کے ) کی جنرل سکریٹری پریم لتا وجے کانت سمیت کئی رہنماؤں نے اس تقرری پر سخت اعتراض کیا تھا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ کے اُس پرانے وعدے کی بھی یاد دہانی کرائی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ عوام کے پیسے کا ایک پیسہ بھی ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔