وقف بورڈ کے مہر بند ریکارڈ سیکشن کی عدم کشادگی

   

تلنگانہ ہائی کورٹ کی ہدایت ندارد ، بورڈ میں محدود عملہ سے وقف اراضیات کو خطرہ
حیدرآباد۔7۔ڈسمبر۔(سیاست نیوز) اقلیتی امور بالخصوص تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے احکامات کی بھی محکمہ اقلیتی بہبود یا حکومت تلنگانہ کو کوئی احساس نہیں ہے بلکہ ہائی کورٹ کی جانب سے دی جانے والی ہدایات کو نظرانداز کیا جانا بھی محکمہ اقلیتی بہبو د میں روایت اور معمول کی بات بن چکا ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے اقلیتی ادارو ںکے متعلق عدالتی احکام کے معاملہ میں بھی خاموشی اور منتخبہ مسلم نمائندوں کی جانب سے کوئی مؤثر نمائندگی نہ کئے جانے کے سبب کوئی اثر نہیں ہورہا ہے ۔ وقف بورڈ کے مہربند ریکارڈ سیکشن کی کشادگی کے سلسلہ میں تلنگانہ ہائی کورٹ کے احکامات کے 5سال گذرنے کے باوجود اس کی کشادگی عمل میں نہیں لائی گئی اور اسی طرح وقف بورڈ میںاوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں اسپیشل پروٹیکشن سیل (اسپیشل ٹاسک فورس سیل ) کے قیام کو منظوری دینے کے لئے تلنگانہ ریاستی ہائی کورٹ میں داخل کی جانے والی درخواست مفاد عامہ 123,124اور 158/2020 کا حوالہ دیتے ہوئے وقف بورڈ کے لئے ایک ڈی ایس پی ‘ ایک انسپکٹر ‘ ایک سب انسپکٹر کے علاوہ دو اسسٹنٹ سب انسپکٹر ‘ ہیڈ کانسٹبل یا پولیس کانسٹبل کی خدمات فراہم کرنے کے لئے وقف بورڈ نے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس تلنگانہ کو ایک مکتوب 20 اپریل 2021کو روانہ کیا تھا لیکن محکمہ پولیس کی جانب سے محض ایک ڈی ایس پی کی خدمات وقف بورڈ کے حوالہ کی گئی جس کے سبب وقف بورڈ میں جناب سید خواجہ معین الدین ڈی ایس پی کا واحد رکنی اسپیشل پروٹیکشن سیل یا اسپیشل ٹاسک فورس سیل خدمات انجام دے رہا ہے۔ محکمہ داخلہ جناب محمد محمود علی کی نگرانی میں خدمات انجام دے رہا ہے اور اگر وزیر داخلہ شخصی دلچسپی لیتے ہیں تو ایسی صورت میں وقف بورڈ کی جائیدادوں بالخصوص قبرستانوں کے تحفظ کے سلسلہ میں بورڈ کے پاس با اختیار پولیس عہدیداروں کی ٹیم ہوسکتی ہے جو کہ صرف فون پر رابطوں کے بجائے عملی طور پر جائیدادوں کے تحفظ کے لئے اقدامات کو یقینی بناسکتی ہے لیکن حکومت اور محکمہ داخلہ کی عدم دلچسپی کے باعث 2021 اپریل کے بعد سے تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ میں برائے نام ویجلنس سیل خدمات انجام دے رہا ہے اور اس سیل کا قیام اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے عمل میں لایا گیا تھا لیکن واحد رکنی سیل ہونے کے سبب کارکردگی کے سلسلہ میں متعدد اشکال و شبہات پائے جانے لگے ہیں اسی لئے حکومت بالخصوص محکمہ داخلہ کی جانب سے فوری طور پر ڈی ایس پی کے علاوہ ایک اور انسپکٹر‘ سب انسپکٹر اور دو اسسٹنٹ سب انسپکٹراں کی خدمات وقف بورڈ کے حوالہ کی جاتی ہیں تو ایسی صورت میں وقف بورڈ میں اسپیشل ٹاسک فورس سیل متحرک طور پر خدمات انجام دے سکتا ہے۔ وقف بورڈ نے پولیس عہدیداروں پر مشتمل سیل کو جب منظوری دی تھی اس وقت اسی شرط پر منظوری دی گئی تھی کہ درکار عملہ کی خدمات فراہم کی جائیں لیکن حکومت کی جانب سے نظرانداز کی پالیسی کے سبب وقف بورڈ میں خصوصی اسپیشل سیل میں اب تک بھی مکمل عملہ کی فراہمی کے اقدامات نہیں کئے گئے ہیں جو کہ انتہائی افسوسنا ک ہے جبکہ وزیر داخلہ اگر محکمہ پولیس کے عہدیداروں کو ہدایت دیتے ہیں تو ایسی صورت میں اندرون دو یوم مکمل درکار عملہ وقف بورڈ پہنچ سکتا ہے۔م