بورڈ کے عہدیداران ، اسٹانڈنگ کونسل اور مقدمات دائر کرنے والوں کے درمیان سازبازکے شبہات
حیدرآباد۔24۔ستمبر۔(سیاست نیوز) عدالتوں میں وقف جائیدادوں کے تحفظ میں تلنگانہ وقف بورڈ مسلسل ناکام ہورہا ہے اور جس رفتار سے وقف بورڈ اپنی جائیدادوں سے محروم ہونے لگا اسے دیکھتے ہوئے ایسا لگنے لگا ہے کہ وقف بورڈ کے عہدیدار ‘ اسٹینڈنگ کونسل اور مقدمات دائر کرنے والوں کے درمیان ساز باز کافی مستحکم ہوچکا ہے۔تلنگانہ ہائی کورٹ نے وقف جائیدادسے متعلق ایک اور گزٹ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے موقوفہ جائیدادوں کے گزٹ کی اجرائی کے باوجود سروے اور دیگر متعلقہ دستاویزات تلنگانہ وقف بورڈ کی جانب سے عدالت میں پیش نہ کئے جانے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موقوفہ جائیدادوں کے گزٹ کی اجرائی سے قبل اس بات کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے کہ آیا مذکورہ جائیداد کو درج اوقاف کرنے سے قبل تمام امور کو مکمل کیا گیا تھا یا نہیں!جسٹس لکشمی نارائن الیشیٹی نے توپران میں موجود 5ایکڑ 8گنٹہ موقوفہ اراضی پر کئے گئے خانگی دعوے کو قبول کرتے ہوئے 2001 میں جاری کئے گئے گزٹ کو کالعدم قرار دیا ہے۔ تلنگانہ وقف بورڈ کی انتہائی قیمتی جائیدادوں کے گزٹ مسلسل کالعدم دیئے جانے کے باوجودنہ ہی تلنگانہ وقف بورڈ کا اجلاس منعقد کیا جار ہاہے اور نہ ہی محکمہ اقلیتی بہبود یا وزیر اقلیتی بہبود کی جانب سے کوئی جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے عدالت میں جاری مقدمات میں ہونے والی شکست کے معاملہ کی جانچ کے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ توپران میں موجود اس موقوفہ اراضی کے پٹہ اراضی ہونے کے ادعاکو عدالت نے قبول کرتے ہوئے وقف بورڈ کے دعوے کو ناکافی دستاویزات کی بناء پر خارج کردیا ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے گذشتہ چندمہینوں اور ہفتوں کے دوران جو گزٹ کالعدم قرار دیئے ہیں ان فیصلوں کے خلاف تلنگانہ وقف بورڈ کی جانب سے اپیل دائر کرنے سے متعلق تاحال کوئی اقدامات نہ کئے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا جارہاہے او رکہا جارہاہے کہ اگر یہی سلسلہ جاری رہاتو ایسی صورت میں وقف بورڈ کی 70 فیصد اراضیات سے متعلق مقدمات جو عدالتوں میں زیر دوراں ہیں ان سے بورڈ کو محروم ہونا پڑے گا کیونکہ ہائی کورٹ میں ہی مناسب پیروی نہ کئے جانے کے سبب جس طرح سے گزٹ اور منتخب کالعدم قرار دیئے جا رہے ہیں وہ تلنگانہ وقف بورڈ کے اسٹینڈنگ کونسل اور عہدیداروں کی نااہلی کو ثابت کرتا ہے۔3/m/b