ٹرمپ نے مخالف ہند تبصرے کو سوشیل میڈیا پر شئیرکیا

,

   

بعد میں ہندوستان کو دوست قرار دینے کی کوشش ۔ وزارت خارجہ ترجمان کا شدید ردعمل

واشنگٹن / نئی دہلی 23 اپریل ( ایجنسیز ) امریکہ میں برتھ رائیٹ سٹیزن شپ کے مسئلہ پر صدر ٹرمپ نے ایک مخالف ہند تبصرے والے پوسٹ کو سوشیل میڈیا پر دوبارہ شئیر کردیا جس پر ہندوستان نے شدید اعتراض کیا ہے ۔ امریکہ میں ایک ریڈیو ہوسٹ مائیکل سیویج نے ایک پوڈ کاسٹ میں ہندوستانیوں اور چینی باشندوں کے تعلق سے انتہائی منفی تبصرے کئے ہیں۔ ریڈیو ہوسٹ نے اپنے اقتباس میں ہندوستانی اور چینی تارکین وطن کو لیپ ٹاپ والے گینگسٹرس قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے امریکی پرچم کو پیروں تلے کچل دیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ ان دونوں ملکوں کے عوام نے تمام مافیا خاندانوں سے زیادہ امریکہ کو نقصان پہونچایا ہے ۔ ان کے خیال میں یہ لیپ ٹاپ والے گینگسٹرس ہیں۔ انہوں نے ہمیں اندھا کردیا ہے ۔ ہمارے ساتھ دوسرے درجہ کے شہری جیسا سلوک کیا جا رہا ہے ۔ سیویج نے کہا کہ وہ ہمیشہ سے ہندوستان میں ہندوستانیوں کے حامی رہے تھے تاہم انہیں حالیہ عرصہ میں احساس ہوا ہے کہ سفید فام باشندے کیلیفورنیا کی ہائی ٹیک کمپنیوں میں صفر کے برابر ہیں۔ سیویج کے اس تبصرے کو ٹرمپ نے اپنے سوشیل میڈیا پر شئیر کردیا تھا جس کے بعد تنازعہ پیدا ہوگیا ہے ۔ بعد میں امریکی سفارتخانہ ہند نئی دہلی کی جانب سے ایک وضاحت جاری کی گئی ۔ کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے ہندوستان کو ایک عظیم ملک قرار دیا اور کہا کہ وہاں ان کا ایک قابل دوست برسر حکومت ہے ۔ اس دوران ہندوستان نے اس مخالف ہند تبصرے کو لا علمی کا نتیجہ ‘ نامناسب اور غیرشائستہ قرار دیا ہے ۔ وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے ٹرمپ کا راست نام نہیں لیا تاہم کہا کہ یہ ریمارکس ہند ۔ امریکہ تعلقات کی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے ۔ دونوں ملکوںک ے تعلقات باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی رہے ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ہم نے یہ ریمارکس دیکھے ہیں یہ لا علمی کا نتیجہ اور نامناسب اور غیرشائستہ ریمارکس ہیں۔