ٹرمپ کا معاہدہ میں تاخیر پر ایران پر دوبارہ حملہ کا حکم

   

واشنگٹن : 11 جون ( ایجنسیز ) امریکی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونکڈ ٹرمپ آگ بگولہ ہوگئے تھے کہ ایران انہیں تجاویز کاجواب نہیں دے رہا اور مایوس ہوکر انہوں نے ایران پر نئے حملیکا حکم دے دیا۔امریکی نیوز ویب سائٹ نے 2 سینئرامریکی اہلکاروں سے بات چیت کی بنیاد پر ایران کیخلاف نئی کارروائی کا پس منظر بتادیا۔صحافی کا کہنا ہیکہ ایران پر حملے کا ٹریگر اپاچی ہیلی کاپٹر گرایا جانا بنا مگر پس منظر میں صدر ٹرمپ کی مایوسی بڑھ رہی تھی کہ ایران نے 2 ہفتے گزرنے کے باوجود امریکی تجاویز پر جواب ہی نہیں دیا تھا۔ امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق حملے امریکا کا اثر بڑھانے کے لیے کیے گئے تاہم اس بات کاخیال رکھا گیا کہ جانی نقصان نہ ہو تاکہ ڈیل کا امکان ختم نہ ہوجائے۔امریکی اہلکار نے کہا کہ جب فائٹر جیٹ اپنے ہدف کی جانب روانہ ہوئے تو ایران کو آگاہ کردیا گیا تھا کہ فوجی اہداف نشانہ بنائے جائیں گے اور یہ بھی کہ اگر اپاچی کے پائلٹ ہلاک ہوتے تو ا?ج بالکل مختلف صورتحال ہوتی۔امریکی اہلکار کے مطابق اسی دوران قطری ثالث بھی تہران سے بات کر رہے تھے کہ مذاکرات کا عمل بحال کیا جائے اور خلا پْر کیا جائے۔حملے سے کئی گھنٹیپہلے وائٹ ہاؤس نے ایک اورکوشش کی تھی کہ ایران کی طرف سے ٹرمپ کی تجاویز پرجواب مل جائے اور خبردارکیا تھاکہ وقت نکلا جارہا ہے۔جس پر ایران نے کہا تھا کہ ابھی جواب تیار نہیں اور یہ بھی کہ اگر حملہ کیا گیا تو اس کا جواب دیا جائیگا۔امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق مطابق بدھ کوبھی جب قطری اور ایرانی اہلکاروں کی ملاقات ہوئی اس وقت بھی صدر ٹرمپ نے نئی دھمکی دی کہ ہم دیکھیں گے کہ ڈیل کا کیا ہوتا ہے۔امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق ایران سے ڈیل پچھلے ماہ ہی طے کرلی جاتی مگر اپنے مندوبین کی جانب سے شرائط منظور کیے جانے کے باوجود 29 مئی کو سیچوئشن روم میٹنگ کے بعد صدر ٹرمپ نے ایران سے درخواست کی کہ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق مفاہمت کی یادداشت کے مسودے میں دو ترامیم کرلی جائیں۔امریکی نیوز ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ ایک شرط یورینئیم افزودگی میں کمی اور دوسری ہرمز سیگزرنے والے جہازوں سے ٹیکس نہ لینے سے متعلق تھی۔بدلے میں صدر ٹرمپ یورینئیم کی ڈاؤن بلینڈنگ ایرانی سرزمین پر آئی اے ای اے کی نگرانی میں ہونے کی اجازت دینے کے لیے تیار تھے۔جس پر ایرانی وزیرخارجہ نے کہا تھا کہ ردعمل کیلئے انہیں چار سے پانچ روز دیے جائیں تاہم دو ہفتے گزر گئے اور جواب نہ آیا۔امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق ڈیل سے متعلق ان کا وعدہ پورا نہ ہونے کی منفی میڈیا کوریج نے صدر ٹرمپ کی مایوسی بڑھادی۔
ساتھ ہی دائیں بازو کے قدامت پسندوں نے بھی تنقید شروع کردی کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر رویہ بہت نرم کرلیا ہے۔