حادثات کی روک تھام کیلئے مرکز کی تجاویز، موٹر وہیکل رولز میں ترمیم کی تیاری، 45 فیصد سے زائد اموات ٹو وہیلرس حادثات کا نتیجہ
رشیدالدین
حیدرآباد 22 جولائی ۔مرکزی حکومت ملک میں ٹو وہیلرس گاڑیوں کے بڑھتے حادثات اور اموات کی روک تھام کے لئے موٹر وہیکل ایکٹ میں ترمیم پر غور کررہی ہے جس کے تحت ٹو وہیلرس میں اوور اسپیڈ اور ہاتھ چھوڑ کر چلانے کی صورت میں الارم کے ذریعہ الرٹ کرنے کی سہولت رہے گی۔ سیفٹی سے متعلق اقدامات کو مزید سخت بنانے کے لئے مرکزی وزارت ٹرانسپورٹ نے 2 وہیلر تیار کرنے والی کمپنیوں سے رائے حاصل کی ہے۔ حکومت نے گاڑیوں میں اینٹی لاک بریکنگ سسٹم اور مسلمہ کمپنیوں کے ہیلمٹ کے استعمال کو لازمی قرار دینے کے بعد نئی ٹیکنالوجی متعارف کرنے کی سمت پیشرفت کی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ٹو وہیلرس سواروں کو مقررہ حد سے زیادہ تیز رفتاری سے چلانے اور ہاتھ چھوڑ کر کرتب بازی جیسی مہمات سے روک سکتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی اور الارم سسٹم کے نتیجہ میں حادثات کو روکنے میں مدد ملے گی۔ مرکزی وزارت روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز نے سنٹرل موٹر وہیکل رولز میں ترمیم کی سفارش کی ہے جس کے تحت گاڑیوں کی تیاری کے وقت ہی ایسا سسٹم شامل کردیا جائے گا جو ہائی اسپیڈ اور ہاتھ چھوڑ کر گاڑی لانے کی صورت میں الارم کے ذریعہ الرٹ کرے گا۔ اِس سسٹم کو ٹو وہیلرس کی تیاری کے لئے لازمی قرار دیا جائے گا۔ حکومت نے ایک ماہ قبل ہی تمام ٹو وہیلرس کے لئے اینٹی لاک بریکنگ سسٹم کو لازمی قرار دیا ہے اور بیورو آف انڈین اسٹانڈرڈ کی مسلمہ ہیلمٹس کے استعمال کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ہر گاڑی کی خریدی کے موقع پر عوام کو ہیلمٹ کی خریداری لازمی کردی گئی۔ مرکزی حکومت نے سیفٹی اقدامات میں مزید اضافہ کرتے ہوئے ملک میں ٹو وہیلرس کے حادثات کو روکنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ملک بھر میں ٹو وہیلرس کے رجسٹریشن کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ مالیاتی سال 2025ء میں 18.9 ملین ٹو وہیلرس گاڑیاں ملک میں رجسٹرڈ کی گئیں جو گزشتہ سال کے مقابلہ 7.8 فیصد زائد ہیں۔ حکومت کے واہن پورٹل کے مطابق گزشتہ سال 17.5 ملین گاڑیوں کا رجسٹریشن کیا گیا تھا۔ مرکزی وزارت ٹرانسپورٹ نے 2 وہیلرس تیار کرنے والی کمپنیوں ہیرو موٹر کارپوریشن، بجاج آٹو لمیٹیڈ، اولا الیکٹرک موبیلٹی اور ٹی وی ایس موٹر کمپنی لمیٹیڈ سے رائے طلب کی ہے۔ 2022ء میں ٹریفک حادثات میں ملک میں 170000 اموات ریکارڈ کی گئیں جن میں 45 فیصد سے زاید اموات ٹو وہیلر گاڑیوں کے حادثات کے سبب ہوئی ہیں۔ 2022ء میں جملہ سڑک حادثات کی تعداد 446000 درج کی گئی اور اوور اسپیڈ کے نتیجہ میں ہلاکتوں کی تعداد 100000 بتائی گئی ہے۔ عہدیداروں کے مطابق موٹر وہیکل رولس میں ترمیم کے لئے مزید 2 ماہ درکار ہوں گے کیوں کہ اِس سلسلہ میں کمپنیوں سے مشاورت جاری ہے۔ نئے قواعد کے نفاذ کی صورت میں گاڑیوں کی قیمت میں بھی اضافہ ہوگا جو کسٹمرس پر بوجھ بن سکتا ہے۔ حکام کے مطابق نئے قوانین جنوری 2026ء سے لاگو ہوں گے اور ٹو وہیلرس کی قیمت میں 3 تا 5 ہزار روپئے کا اضافہ ہوگا۔ کمپنیوں کو نئے قواعد کے مطابق ٹیکنالوجی کا اضافہ کرنا ہوگا جس کے تحت اوور اسپیڈ اور ہاتھ چھوڑ کر چلانے پر فوری وارننگ سگنل دیا جائے گا۔1