ٹیچرس کے تبادلوں پر 14 مارچ تک حکم التواء جاری

   

یونین قائدین کا ٹیچرس جوڑے کو زائد پوائنٹس دینے پر اعتراض، کاؤنٹر داخل کرنے حکومت کو ہدایت

حیدرآباد۔14۔ فروری (سیاست نیوز) ٹیچرس کے تبادلوں اور تر قیوں کا عمل تعطل کا شکار ہوگیا ہے ۔ ہائیکورٹ نے تبادلوں کے عمل پر 14 مارچ تک حکم التواء عائد کردیا۔ ٹیچرس کی طویل عرصہ سے ترقیات نہیں ہوئی اور نہ ہی تبادلوں کیلئے خصوصی حکمت عملی کا اعلان کیا گیا ہے جس سے ٹیچرس حلقوں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی نے محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے نقائص سے پاک پالیسی تیار کرنے کی ہدایت دی تھی ۔ بالخصوص عدلیہ میں کوئی مسئلہ پیش نہ آئے اس کا خاص خیال رکھتے ہوئے رہنمایانہ خطوط جاری کرنے کے احکامات جاری کرنے پر زور دیا گیا تھا ۔ تبادلوں کیلئے درخواستیں قبول کرنے سے قبل لمحہ آخر میں میاں بیوی کے ایک ہی مقام پر تبادلے کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ جی او 317 کے تحت ٹیچرس کو تبادلوں کے عمل سے دور رکھا گیا تھا ، ان کی تنظیم ہائی کورٹ سے رجوع ہوئی جس پر ہائیکورٹ نے انہیں بھی تبادلوں کے عمل کا حصہ بنانے کی حکومت کو ہدایت دی تھی جس پر وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی نے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ عہدیداروں کا اجلاس طلب کیا اور ان کے بھی تبادلے کرنے کیلئے درخواستیں داخل کرنے کی مہلت دی تھی۔ یہ سمجھا جارہا تھا کہ مسئلہ کا خوشگوار حل برآمد ہورہا ہے ۔ تر قی و تبادلوں کا جو عمل شروع ہوا ہے ، وہ جاری کردہ شیڈول کے مطابق مکمل ہوگا ۔ اس دوران تبادلوں کے قواعد پر اعتراض کرتے ہوئے نان اسپا س ٹیچرس اسوسی ایشن (غیر میاں بیوی ٹیچرس اسوسی ایشن) کی داخل کردہ درخواست پر غور کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ کیا ہے ۔ درخواست گزار کے وکیل نے ٹیچرس کے تبادلوں کیلئے جاری کردہ قواعد کو دستور کی خلاف ورزی قرار دیا ۔ ملازمین یونین قائدین نے (جوڑوں) کو زائد پوائنٹس دینے کی مخالفت کی جس پر ہائی کورٹ نے کاؤنٹر داخل کرنے کی حکومت کو ہدایت دی اور ساتھ ہی 14 مارچ تک ٹیچرس کے تبادلوں کے عمل پر حکم التواء عائد کیا۔ن