ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ، گلبرگہ میں احتجاج۔ ٹیکہ سے موت نہیں ہوئی: ہیلت آفیسر
گلبرگہ۔ 13دسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ری پبلیکن یوتھ فیڈریشن ضلع گلبرگہ کے کارکنان نے پیر کے دن دفتر ڈپٹی کمشنر گلبرگہ کے روبرو ایک احتجاجی مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ چوتھی جماعت کے طالب علم کی موت کے ذمہ دار میڈیکل اسٹاف کے خلاف کارروائی کی جائے جو الزام کے مطابق جاپانی اینسیٖفیلائیٹسJapanese Encephalitistisٹیکہ کے ذیلی اثرات کے سبب انتقال کرگیا۔اس ضمن میں ڈپٹی کمشنر گلبرگہ کو پیش کردہ یادداشت میں فیڈریشن کے ضلعی کنوینر ہنومنت اٹگی نے کہا ہے کہ 10سالہ آکاش ولدچندر کانت جو بسویشور پرائیمری اسکول میں چوتھی جماعت کا طالب علم تھا اور ہیراپور گائوں کا ساکن تھا اسے 5دسمبر کو مذکورہ بالا ویاکسین لگایا گیا تھا ۔ اسی رات سے وہ بخار میں مبتلا ہوگیا ۔ جب بخار کم نہ ہوسکاتو اسے سنگمیشور ہاسپٹل میںشریک کروایا گیا جہاں اس کا انتقال ہوگیا ۔الزام میں کہا گیا ہے کہ یہ لڑکا چونکہ جاپانی اینسیفلایئٹس ٹیکہ کے ذیلی اثرات سے مرا ہے لہٰذا محکمہ صحت کے عہدہ داران کو سزا ملنی چاہئے اور حکومت کو چاہئے کہ وہ اس لڑکے کے والدین کو ایک کروڑ روپیوں کا معاوضہ ادا کرے کیوں کہ مرحوم کے والدین نہایتغریب ہیں اور مزدوری کی حیثیت سے کام کرتے ہیں ۔ مذکورہ بالا احتجاجی مظاہرہ میں انتقال کرجانے والے لڑکے کے والدین نے بھی شرکت کی ۔ مذکورہ بالا واقعہ کے ضمن میں ضلعی ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر راج شیکھر مالے کا کہنا ہے کہ اب تک ایک سال سے پندرہ سال کی عمر والے 3لاکھ بچوںکو گلبرگہ ضلع میں مذکورہ بالا جے ای ویاکسین لگایا گیا ہے لیکن کسی نے بھی ذیلی اثرات کی شکایت نہیں درج کروائی ہے۔ ضلعی ہیلتھ آفیسر کے بیان کے بموجب انھیںملنے والی اطلاعات کے مطابق مذکورہ بالا انتقال کرجانے والا لڑکا پہلے ہی سے مختلف بیماریوں میں مبتلا تھا جن میں مرگی اور دم گھٹنے کی بیماریاں شامل تھیں ۔ اس سے ہٹ کر ہاسپٹل نے اعلان کردیا ہے کہ اس لڑکے کو مردہ حالت میں ہی لایا گیا تھا۔ رشتہ داران نے اس کا جسم حاصل کیا اور آخری رسومات انجام دے دیں ۔ اس کے سبب لڑکے کے جسم کا پوسٹ مارٹم نہیںکیا جاسکا ۔ انھوں نے کہا کہ ماہرین کے بیان کے بموجب وہ اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ مذکورہ بالا موت کسی طرح کے ذیلی اثرات کے سبب نہیں ہوئی ہے ۔