طریقہ کار کی وضاحت کیلئے حکومت کو ایک ہفتہ کی مہلت، 21 نومبر کو اگلی سماعت
حیدرآباد۔/15 نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے حکومت کو ایک ہفتہ کی مہلت دی ہے تاکہ اس بات کی وضاحت کی جائے کہ تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن میں 6 ارکان کی نامزدگی کیلئے اپنائے گئے طریقہ کار اور ترجیحات سے واقف کرایا جائے۔ چیف جسٹس اجل بھویاں اور جسٹس وجئے بھاسکر ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے حکومت کی جانب سے گذشتہ ہفتہ پیش کردہ ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ارکان کی نامزدگی کے طریقہ کار سے متعلق مزید تفصیلات طلب کی ہے۔ ریٹائرڈ پروفیسر اے ونائیک ریڈی نے کمیشن میں 6 ارکان کی نامزدگی کو چیلنج کیا۔ درخواست گذار کا کہنا ہے کہ 6 ارکان کی نامزدگی میں حکومت نے قواعد کی پابندی نہیں کی ہے اور وہ اہلیت کے معیار کو پورا نہیں کرتے۔ گذشتہ سال مئی میں انہیں کمیشن میں نامزد کیا گیا اور ان کی نامزدگی پبلک سرویس کمیشن قواعد کے مطابق نہیں ہے۔ درخواست گذار کے وکیل نے کہا کہ کمیشن میں رکن کا عہدہ دستوری رتبہ کا ہوتا ہے جس کی میعاد چھ سال ہوتی ہے۔ قواعد کے مطابق پبلک سرویس کمیشن کے مقرر کردہ ارکان نامور شخصیت کے حامل اور اعلیٰ معیار اور ڈگری رکھتے ہوں۔ قواعد کے مطابق اہم شخصیتوں کا تعلق تعلیم، مینجمنٹ، قانون، سائینس اینڈ ٹکنالوجی، سوشیل سائینس اور دیگر شعبہ جات سے ہو۔ درخواست گذار نے بتایا کہ جی او نمبر 108 مورخہ 19 مئی 2021 کے ذریعہ جن 6 ارکان کا تقرر کیا گیا وہ مذکورہ زمرہ جات کے تحت نہیں آتے۔ عدالت نے جاننا چاہا کہ کیا حکومت نے اہل افراد سے درخواستیں طلب کی ہیں اور اگر طلب کی گئیں تو کتنی درخواستیں موصول ہوئیں۔ حکومت نے عدالت کو وضاحت کی کہ اہل امیدواروں کا انتخاب کرتے ہوئے ان سے درخواستیں حاصل کی گئی ہیں۔ عدالت نے حکومت کو مزید تفصیلات کے ساتھ حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے آئندہ سماعت 21 نومبر کو مقرر کی ہے۔ جن 6 ارکان کے تقرر پر اعتراض کیا گیا ان میں ریٹائرڈ چیف انجینئر، خانگی انجینئرنگ کالج کے ٹیچر، سیکنڈری گریڈ اسکول ٹیچر، ڈپٹی تحصیلدار، آیورویدک میڈیسن میں گریجویٹ اور صحافی شامل ہیں۔ر