ریونت ریڈی نے کوڑنگل میں احتجاجی ریالی کی قیادت کی، نریندر مودی اور دھرمیندر پردھان پر ملک کو لوٹنے کا الزام
حیدرآباد ۔22 ۔ جولائی (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کوڑنگل میں اپنی قیامگاہ سے امبیڈکر چوراہے تک احتجاجی ریالی کی قیادت کی۔ نئی دہلی میں طلبہ پر پولیس لاٹھی چارج کے خلاف راہول گاندھی اور دیگر قائدین کی جانب سے وزیراعظم کی قیامگاہ پر دھرنے کے دوران گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے یہ ریالی منظم کی گئی۔ ریالی میں سینکڑوں کی تعداد میں کانگریس کارکنوں نے حصہ لیا اور وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف نعرہ بازی کی گئی۔ کارکنوں نے نیٹ امتحانی پرچہ کے افشاء کے معاملہ میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی مرکزی کابینہ سے برطرفی کا مطالبہ کیا۔ چیف منسٹر نے راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کے ساتھ مرکزی حکومت کے رویہ کی مذمت کی اور کہا کہ احتجاج کے دوران پولیس نے ظالمانہ رویہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت میں کانگریس قائدین نے پرامن دھرنا منظم کیا تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے بی جے پی حکومت کھلواڑ کر رہی ہے ۔ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں امتحانی پرچوں کا افشاء روز کا معمول بن چکا ہے ۔ انہوں نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی کابینہ میں برقراری پر مرکزی حکومت سے سوال کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی نے طلبہ کی حمایت میں وزیراعظم کی قیامگاہ کے باہر احتجاج کیا لیکن پولیس نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس کارروائی میں راہول گاندھی زخمی ہوئے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ملک کی خاطر گاندھی خاندان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ 1/k
پولیس کے تشدد میں راہول گاندھی کا زخمی ہونا انگریز مظالم کی یاد دلاتا ہے ۔ راجیو گاندھی نے ملک کی یکجہتی کیلئے اپنی جان قربان کی۔ سونیا گاندھی نے 10 برس تک اقتدار کے باوجود وزیراعظم کا عہدہ قبول نہیں کیا اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کو وزارت عظمی پر فائز کیا گیا۔ اپوزیشن میں رہتے ہوئے سونیا گاندھی نے کوئی عہدہ قبول نہیں کیا اور راجیہ سبھا میں ملکارجن کھرگے کو قائد اپوزیشن مقرر کیا۔ چیف منسٹر نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت پارلیمنٹ میں نیٹ پیپر لیک معاملہ پر مباحث سے خوفزدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی اور دھرمیندر پردھان ملی بھگت سے ملک کو لوٹ رہے ہیں۔ تلنگانہ میں بی آر ایس دور حکومت میں 2019 ء میں انٹرمیڈیٹ امتحانی پرچہ کا افشاء ہوا تھا جس کے نتیجہ میں 27 طلبہ نے خودکشی کی۔ کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد امتحانات شفاف طریقے سے منعقد کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرچہ جات کے افشاء کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہو ںنے اعلان کیا کہ کانگریس پارٹی احتجاجی طلبہ و نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور مودی حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی۔ چیف منسٹر نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ نریندر مودی کو اقتدار سے بیدخل کرتے ہوئے راہول گاندھی کو وزیراعظم بنانے تک خاموش نہ رہے۔ احتجاجی ریالی میں پولیس کی جانب سے راہول گاندھی پر حملہ سے متعلق تصاویر کا بیانر عوام کی توجہ کا مرکز تھا۔ امبیڈکر چوراہے پر ریونت ریڈی نے ڈاکٹر بی آر امیڈکر کے مجسمہ پر گلہائے عقیدت پیش کئے۔ ریالی میں کانگریس ارکان اسمبلی رام موہن ریڈی ، منوہر ریڈی کے علاوہ مختلف کارپویشنوں کے صدور نشین اور مقامی کانگریس قائدین نے شرکت کی۔1/k