آئندہ انتخابی مہم کیلئے میٹرو سے پہونچنے چیف منسٹر کاد عویٰ ناممکن ہونے کا امکان، منصوبہ لیت و لعل کا شکار
حیدرآباد۔2۔اگسٹ۔(سیاست نیوز) پرانے شہر میں میٹرو ریل کے کاموں کا آغاز آخر کب ہوگا!ریاستی ومرکزی حکومت کے درمیان پھنسی ہوئی معاملت کے درمیان اگر پرانے شہر میں میٹرو ریل کے کام بھی پھنس جاتے ہیں تو ایسی صورت میں پرانے شہر کے عوام کا میٹرو ریل کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے میں مزید وقت لگ سکتا ہے!چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے پرانے شہر میں منعقدہ میٹرو ریل کے کاموں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ وہ آئندہ انتخابات میں انتخابی مہم کے لئے میٹرو ریل سے حیدرآباد پہنچیں گے لیکن اب جبکہ وقت تیزی سے گذر رہا ہے لیکن میٹر ریل کا ایک پلر بھی تعمیر نہیں ہوپایا ہے بلکہ جائیدادوں کے حصول کے کام اب تک بھی جاری ہیں۔حیدرآباد میٹرو ریل کے عہدیداروں کا کہناہے کہ دارالشفاء تا فلک نما کے درمیان 7.5کیلو میٹر کی راہداری پر سڑک کی توسیع کے کاموں کو مکمل کرلیا گیا ہے اور مجموعی طو رپر 93 فیصد جائیدادوں کو حاصل کرتے ہوئے ان کے انہدام کے عمل کو مکمل کرلیا گیا ہے لیکن اب بھی اس راہداری پر 7 فیصد جائیدادوں کا حصول باقی ہے اور ان جائیدادوں کے حصول اور انہدام کے بعد ہی میٹرو ریل کی جانب سے دیگر کاموں کا آغاز کیا جائے گا۔ حیدرآباد میٹرو ریل کے کام جس وقت شہر حیدرآباد میں شروع کئے گئے تھے اسی وقت پرانے شہر کو بھی اس منصوبہ میں شامل کیاگیا تھا لیکن مختلف وجوہات اور اعتراضات کے بعد اس منصوبہ کو لیت و لعل کا شکار بناتے ہوئے نظرانداز کیا جانے لگا تھا ۔ ریاست میں کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے فلک نما میں منعقدہ ایک تقریب میں پرانے شہر میں میٹرو ریل کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ جلد از اجلد ان کاموں کو مکمل کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے اور ابتداء میں ان کاموں کو تیزی کے ساتھ انجام دیا جاتا رہا لیکن اب دوبارہ اس راہداری پر میٹرو ریل کے تعمیراتی و ترقیاتی کاموں میں سست روی دیکھی جانے لگی ہے ۔ذرائع کے مطابق جائیدادوں کے حصول اور سڑکوں کی توسیع کے بعد محکمہ برقی کی جانب سے برقی کھمبوں اور تاروں کو سڑک کے کنارے کرنے کے کاموں کو شروع کردیاگیا ہے لیکن حیدرآباد میٹرو ریل کے عہدیدار اب تک بھی اپنی سرگرمیوں کے آغاز نہیں کرپائے ہیں جو کہ میٹرو ریل کے آغاز میں مزید تاخیر کا اشارہ دے رہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق ریاست کے سرکردہ اعلیٰ عہدیداروں نے ’’پرانے شہر‘‘ میں میٹرو ریل کے کاموں کی رفتار کے سلسلہ میں گذشتہ دو ماہ کے دوران کوئی جائزہ اجلاس منعقد نہیں کیا جس کے نتیجہ میں ان کے ماتحت خدمات انجام دینے والے عہدیداروں نے بھی اس پراجکٹ کے متعلق اپنی سرگرمیوں کو محدود کردیا ہے جو کہ پراجکٹ کے لئے مناسب نہیں ہے۔3