دعائیں ہم کو دی ہوں گی کسی نے
حوادث ہوتے ہوتے ٹل رہے ہیں
ملک بھر میں مختلف سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں حکمت عملی کے ذریعہ مدد کرنے اور انتخابات لڑوانے میں مہارت رکھنے والے پرشانت کشور اب خود انتخابی میدان میں کود پڑے ہیں۔ پرشانت کشور کو ان کی پارٹی جن سوراج نے پٹنہ کی بنکی پورنشست کیلئے ہونے والے ضمنی انتخاب کیلئے میدان میںاتارنے کا اعلان کردیا ہے ۔ پرشانت کشور نے خود گذشتہ دنوں یہ اشارہ دیا تھا کہ ان کی پارٹی انہیں انتخابی میدان میں اتارنے کا فیصلہ کرسکتی ہے ۔ حالانکہ حالیہ بہار اسمبلی انتخابات میں جن سوراج نے تقریبا تمام نشستوں پر مقابلہ کیا تھا تاہم وہ اپنا کھاتہ بھی نہیں کھول پائی تھی ۔ پرشانت کشور نے اپنی پارٹی کے امیدواروں کے حق میں پوری شدت سے مہم چلائی تھی ۔ مختلف جماعتوںکو انتخابی کامیابی سے ہمکنار کرنے کا دعوی کرنے والے پرشانت کشور اپنی پارٹی کیلئے حالات سازگار بنانے اور اسے کامیابی دلانے میں ناکام رہے تھے ۔ اب اپنی پارٹی کی ناکام شروعات کے بعد خود مسٹر پرشانت کشور اب انتخابی میدان میں کود پڑے ہیں۔ بنکی پور سے پرشانت کشور مقابلہ کریں گے اور یہ نشست بی جے پی کے قومی صدر نتن نابن کے مستعفی ہونے کی وجہ سے خالی ہوئی ہے ۔ نتن نابن نے راجیہ سبھا کیلئے منتخب ہونے کے بعد اسمبلی کی رکنیت سے استعفی پیش کردیا تھا ۔ پرشانت کشور کے انتخابی میدان میں کودنے سے سیاسی سرگرمیوںمیں تیزی اور شدت تو دیکھنے میں ضرور آئے گی ۔ بی جے پی اس نشست سے مقابلہ ضرور کرے گی اور ابھی اس کے امیدوار کا اعلان نہیں ہوسکا ہے ۔ ابھی یہ بھی واضح نہیںہوسکا ہے کہ آر جے ڈی اس نشست سے مقابلہ کرے گی یا نہیں اور اگر کرے گی تو کس کو امیدوار بنایا جاسکتا ہے ۔ پرشانت کشور سیاسی جماعتوں کیلئے اہم رول ادا کرچکے ہیںتاہم وہ اپنی پارٹی کو کامیابی دلانے میں ناکام رہے تھے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ خود اپنے لئے کامیابی حاصل کرپائیں گے یا نہیںکیونکہ اس نشست سے مقابلہ بہت شدید ہوسکتا ہے اور بی جے پی پوری طاقت سے مقابلہ کرے گی ۔
پرشانت کشور تاحال انتخابی سیاست سے دور رہے تھے ۔ انہوں نے ملک میںکئی جماعتوںکو انتخابات میں مدد کرچکے ہیں۔ خود 2014 میں بی جے پی کیلئے انہوں نے کافی مدد کی تھی اور وزیر اعظم کی حیثیت سے نریندر مودی کے انتخاب میں اہم رول ادا کیا تھا ۔ اس کے بعد انہوں نے مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کو ‘ آندھرا پردیش میں وائی ایس آر کانگریس کو ‘ ٹاملناڈو میںڈی ایم کے کو اور مختلف ریاستوں میں دوسری جماعتوں کو انتخابی حکمت عملی بنانے میں مدد کی تھی ۔ پرشانت کشور کی سیاسی اہمیت سے مختلف جماعتیں واقف ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنی خود کی ریاست بہار میں اپنی پارٹی کو کامیابی دلانے میں ناکام رہے تھے ۔ اس صورتحال میں خود پرشانت کشور کا انتخابی میدان میں کود پڑنا بہت اہمیت کا حامل کہا جاسکتا ہے ۔ پرشانت کشور بھی اگر بنکی پورہ میں کامیاب نہیںہو پاتے ہیں تو پھر ان کی سیاسی اہمیت بالکل صفر ہو کر رہ جائے گی اور پھر وہ دوسری جماعتوں کیلئے بھی اہمیت کے حامل نہیں رہ پائیں گے ۔ حالانکہ پرشانت کشور نے اپنی سیاسی حکمت عملی کی تنظیم کو عملا ختم کردیا ہے لیکن مستقبل میں اس کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر پرشانت کشور بنکی پور سے کامیابی حاصل کرلیتے ہیں تو پھر ان کی سیاسی اہمیت کو بحال کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور پھر اس کے نتیجہ میں مستقبل میں نئی سیاسی صف بندیوں کے امکانات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کے دور رس اثرات ہوسکتے ہیں۔
ابھی حالانکہ انتخابات کے شیڈول کا اعلان نہیں ہوا ہے لیکن پرشانت کشور کی امیدواری کا اعلان کرتے ہوئے جن سواراج پارٹی نے انتخابی بگل عملی طور پر بجا دیا ہے ۔ اب دوسری جماعتیں بھی اس سے لا تعلق نہیں رہ سکتیں کیونکہ انہیں بھی وقت سے قبل سرگرم ہونا پڑے گا اگر انتخابات میں مقابلہ کرنا ہے ۔ پرشانت کشور کی امیدواری سے ریاست میں نئی سیاسی سرگرمیوں کو شدت مل سکتی ہے ۔ نتائج کیا ہونگے یہ ابھی کہا نہیں جاسکتا تاہم سیاسی سرگرمیوں میں بتدریج تیزی کا امکان ضرور پایا جاتا ہے ۔