ڈی کے سنگھ
بہار کے بنکی پور کے ضمنی انتخاب میں پرشانت کشور نے بی جے پی کو شرمناک شکست دے کر سیاسی حلقوں میں ہلچل مچادی۔ پی کے کی کامیابی نے یقیناً مودی۔شاہ کی بی جے پی کیلئے خطرہ کی گھنٹی بجادی ہے۔ واضح رہے کہ بنکی پور اسمبلی حلقہ میں رائے دہندوں کی جملہ تعداد 3.79 لاکھ ہے جن میں ایک اندازہ کے مطابق 1.6 لاکھ رائے دہندوں کا تعلق اعلیٰ ذات سے ہے ۔ جہاں تک بنکی پور کا سوال ہے وہ گزشتہ 30 برسوں سے بی جے پی کا قلعہ رہا ہے اور پرشانت کشور نے اس قلعہ کو بالآخر فتح کرلیا ۔ بنکی پور اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب کا یقیناً ریاستی اور قومی سیاست میں کافی چرچا رہا ۔ اس الیکشن میں جن سواراج پارٹی کے بانی نے بی جے پی کے نیرج کمار کو شکست سے دوچار کیا اور انہوں نے یہ کارنامہ سیاسی زندگی کے پہلے مقابلہ میں انجام دیا ۔ اگرچہ انہوں نے نیرج کمار کو شکست دی لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو پرشانت کشور نے بی جے پی کے قومی صدر نتن نبن کو ہرایا جنہوں نے اس حلقہ سے مسلسل 5 مرتبہ کامیابی حاصل کرنے کا ریکارڈ قائم کیا تھا چونکہ پارٹی نے انہیں راجیہ سبھا بھیجا اسی لئے اسمبلی سے استعفیٰ دینا پڑا۔ آپ کو بتادیں کہ اس حلقہ سے خود نتن نبن کے والد نے چار مرتبہ کامیابی حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا تھا ۔ بہرحال پرشانت کشور کی کامیابی ہوسکتا ہے کہ آنے والے برسوں میں جن سوراج پارٹی کو ریاست میں اصل اپوزیشن پارٹی بنادے اور اس کا خمیازہ لالو پرساد یادو کو بھگتنا پڑسکتا ہے ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ تیجسوی یادو نے بنکی پور کے ضمنی انتخاب میں زیادہ سنجیدگی نہیں دکھائی کیونکہ کوئی سنجیدہ سیاستداں عین انتخابی مہم کے درمیان تین ہفتوں کی چھٹیاں نہیں مناتا۔ پی کے کی کامیابی سے بی جے پی کیمپ میں خطرہ کی گھنٹی بجنا چاہئے اس لئے انہوں نے نتن نبن یا چیف منسٹر سمراٹ چوہدری کے بارے میں کچھ کہا، بی جے پی کیلئے سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اعلیٰ ذات کے ہندو ان کے حقیقی حامی رائے دہندے ہیں لیکن اس مرتبہ ان رائے دہندوں نے خود کو بی جے پی سے دور کرلیا یا بی جے پی دوری اختیار کر رہی ہے ۔ اس نتیجہ کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ Gen-Z نے اہم کردار ادا کیا ۔ اس بارے میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ نتیجہ Gen-Z کی تائید و حمایت کے باعث تھا یا نہیں ۔ بی جے پی کو اس بات کا اندازہ ہونا چاہئے کہ اس کے اپنے رائے دہندوں میں اس کے تئیں بے چینی بڑھتی جارہی ہے جن میں طلبہ اور نوجوان بھی شامل ہیں جنہوں نے 2014 میں اسے (بی جے پی) کو اقتدار حوالے کیا ۔ طلبہ کے احتجاج کے باعث ہی وزیراعظم نریندر مودی اپنے بااعتماد کابینی رفیق اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو گھر کا راستہ دکھانے پر مجبور ہوئے ، وہ ان وزراء میں شامل تھے جو 2014 ء سے مودی حکومت میں اپنی وجود کا احساس دلاتے رہے، ایسے بمشکل نصف درجن وزراء ہوں گے جن میں راجناتھ سنگھ ، نتن گڈکری ، پیوش گوئل ، نرملا سیتارامن ، راؤ اندر جیت سنگھ اور جتیندر سنگھ شامل ہیں ۔ حکومت نے کاکروجیس کا غصہ ٹھنڈا کرنے اور انہیں سمجھانے کی خاطر دھرمیندر پردھان کی بلی چڑھائی اس طرح طلبا کو جنتر منتر سے ان کے گھرں کو روانہ کیا ۔ ان کی پارٹی اب ایسا لگتا ہے کہ کاکروجیس کے سامنے جھک کر بہت بڑی غلطی کی اور اس کے بعد بی جے پی حکومت کا رویہ طلبہ کے تئیں کس طرح بدل گیا اسے بآسانی دیکھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے ۔ ایک طرف مودی حکومت طلبہ کو خوش کرنے کی کوششوں میں مصروف تھی تو اس دوران بی جے پی رکن پارلیمنٹ کنگنا رناوت مودی کے خلاف احتجاج کرنے والی طالبات کو جنریشن گٹر قرار دے کر ان کی مذمت کر رہی تھی لیکن جیسے ہی آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے Gen-Z کی تائید و حمایت میں بیان دیا ۔ کنگنا رناوت نے بھی اپنا لب و لہجہ بدل دیا۔ دوسری طرف اترپردیش کی گورنر آنندی بین پاٹل نے جو مودی کی بااعتماد رفیق ہیں مودی کے خلاف طالبات کے بیانات کی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ احتجاجی طالبات نے مودی جی کے خلاف جس طرح کی زبان استعمال کی ، اس نے ساری قوم کو شرمسار کردیا ۔ بعد میں مودی جی کاویڈیو منظر عام پر آیا جس میں انہوں نے احتجاجی طلبہ کے بارے میں کہا کہ ان گمراہ بچوں نے ان کے اور ان کی آنجہانی ماں کے خلاف فحش باتیں کی ، گالیاں دیں، انہیں افسوس اس بات پر تھا کہ ہماری قوم کی بیٹیاں اس قسم کی گندی زبان استعمال کر رہی ہے ۔ مودی نے ان بچوں کو معاف کرنے کا اعلان بھی کیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بچوں کا یہ احتجاج مودی حکومت کی ناکامیوں کے خلاف تھا ۔ دوسری جانب گودی میڈیا کی جانب سے کئے گئے سروے میں (جسے فرض سروے بھی کہا جا سکتا ہے) 54.2 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ مودی جی کے خلاف گالیاں بکنے اور قابل اعتراض پوسٹ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے ۔