ماسکو : روسی صدر ولادیمیر پوتن کو اپنے وزیر برائے صنعت اور تجارت کو سب کے سامنے ڈانٹتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ یہ واقعہ ان کی حکومت کے سالِ نو کے پہلے اجلاس کے دوران پیش آیا۔ انھوں نے کئی منٹ تک اپنے وزیر ڈینس مانتوروف پر سویلین اور فوجی طیاروں کے آرڈر دینے میں تاخیر کا الزام لگایا۔ وہ عوام میں اعلیٰ حکام پر تنقید کرنے میں کبھی پیچھے نہیں رہے۔ ’بہت دیر ہوگئی ہے، اس میں بہت وقت لگ رہا ہے۔ ادھر ادھر کیوں وقت برباد کر رہے ہیں؟ کنٹریکٹ کب سائن ہوں گے؟‘ روسی حکومت کا پہلا اجلاس اسی دن ہوا جب صدر پوتن نے یوکرین میں اپنے اعلیٰ کمانڈرز کو صرف تین ماہ کے چارج کے بعد تبدیل کیا تھا۔ جنرل سرگئی سرووکِن کو اکتوبر میں یوکرین پر روس کے حملے کے نتیجے میں ہونے والی ناکامیوں کے بعد تعینات کیا گیا تھا لیکن وہ جنگ کا رخ تبدیل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔