پٹرول اور ڈیزل پر لوٹ برقرار

   

سرکاری تیل کمپنیوں کی جانب سے مشرق وسطی کی کشیدگی کے دوران پٹرول اور ڈیزل کے علاوہ کمرشیل گیس اور پانچ کیلو کے چھوٹے سلینڈرس کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا ۔ فیول اور ایندھن کی ہر شئے مہینگی ہوگئی تھی اور یہ عذر پیش کیا گیا تھا کہ مشرق وسطی کشیدگی کی وجہ سے قیمتوں میں بھاری اضافہ ہوا ہے اور سپلائی چین بھی متاثر ہوگئی تھی ۔ عوام پر لگاتار بوجھ عائدکرتے ہوئے تیل کمپنیوں کو نقصانات سے بچانے کے اقدامات کئے گئے تھے اور پٹرول اورڈیزل کی قیمتوںمیں کم از کم تین مرتبہ اضافہ کیا گیا تھا ۔ یہ دعوی کیا گیا تھا کہ کمپنیںو کو جو نقصانات ہو رہے ہیں وہ ناقابل برداشت ہوگئے ہیں۔ حالانکہ مرکزی حکومت اپنے محاصل میں کمی کرتے ہوئے قیمتوں کو برقرار رکھ سکتی تھی تاہم ایسا نہیں کیا گیا تھا ۔ اب حالات بدل چکے ہیں۔ سرکاری تیل کمپنیوں نے جس بہانے سے قیمتوں میں اضافہ کیا تھا وہ اب ختم ہوچکے ہیں۔ بین الاقوامی مارکٹ میں خام تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آچکی ہیں بلکہ اس سے بھی کم سطح پر پہونچ چکی ہیں۔ جہاں تک سپلائی کی صورتحال ہے وہ بھی بہتر ہوچکی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے پٹرول اورڈیزل کی فروخت پر جو تحدیدات عائد کی تھیں وہ ختم کردی گئی ہیں۔ کمرشیل گیس کی سپلائی کو بھی پوری حد تک بحال کردیا گیا ہے اور آج حکومت کی جانب سے کمرشیل گیس ‘ ندرون ملک اے ٹی ایف اور پانچ کیلو کے سلینڈرس کی قیمتوں میں کمی کردی ہے ۔ اس کے باوجود گھریلو پکوان گیس سلینڈر اور پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں کسی طرح کی کمی سے گریز کیا گیا ہے اور تیل کمپنیاں اس کے ذریعہ ایک طرح سے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہی ہیں جبکہ بین الاقوامی منڈی میں قیمتیں پہلے سے بھی کم سطح پر پہونچ چکی ہیں۔ تیل کمپنیوں کا یہ عذر ہوسکتا ہے کہ انہوں نے جو پہلے خسارہ برداشت کیا تھا اب اس کی پابجائی کر رہی ہیں تو یہ خسارہ شائد پورا ہو بھی گیا ہے لیکن تیل کمپنیاں عالمی سطح پر قیمتوں میںکمی کے فوائد عام آدمی تک پہونچانے سے پوری طرح سے گریز کر رہی ہیں ۔
ماضی میں کئی مواقع پر ایسا ہوا ہے کہ حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا گیا تھا ۔ یہ عذر ہی پیش کیا گیا تھا کہ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ تاہم جب عالمی منڈی میں قیمتیں مسلسل گراوٹ کا شکار رہیں تب بھی عوام کو راحت پہونچانے سے گریز کیا گیا تھا اور سرکاری خزانہ بھرنے پر ہی توجہ دی گئی تھی ۔ اب بھی حکومت کا یہی طریقہ کار نظر آتا ہے ۔ وہ عالمی سطح پر بہتر ہوتی صورتحال کے باعد عوام کو راحت پہونچانے کیلئے تیار نہیں ہے اور تیل کمپنیوں کے ذریعہ حکومت کا خزانہ بھرنے پر ہی توجہ دی جا رہی ہے ۔ ملک میں مہنگائی اپنی حدوں کو پہونچ چکی ہے ۔ عوام مسلسل مہنگائی کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہیں۔ روز مرہ کی ضروریات کی تکمیل کیلئے بھی عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ مرکزی حکومت عوام کی پریشانیوںاور ان کے مسائل سے پوری طرح سے بے پرواہ اور لاتعلق ہوگئی ہے اور اسے عوام کی مشکلات کا کوئی احساس نہیں رہ گیا ہے ۔ وہ صرف سرکاری خزانہ بھرنے اور تیل کمپنیوں کے منافع میں اضافہ پر ہی توجہ کئے ہوئے ہے ۔ حکومت کو عام آدمی کی پریشانیوں سے اس طرح کی لا تعلقی کا سلسلہ ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ عوام کو مہنگائی سے راحت دینا حکومت کی ذمہ داری ہے جو پوری نہیں کی جا رہی ہے ۔
اب جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پہلے سے کم ہوگئی ہیں تو سرکاری تیل کمپنیںو کو بھی اندرون ملک قیمتوں کو نہ صرف کشیدگی سے قبل کی سطح پر لانا چاہئے بلکہ اس سے بھی کم کیا جانا چاہئے تاکہ عوام کو راحت مل سکے ۔ فیول کی قیمتوں میں کمی کے دوسری اشیاء پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ غذائی اشیاء سستی ہوسکتی ہیں اور ٹرانسپورٹ اخراجات میں کمی سے عوام کے بجٹ میں سہولت ہوسکتی ہے ۔ اپوزیشن کو بھی مسلسل اس مسئلہ کو حکومت سے رجوع کرنا چاہئے ۔ حکومت اگر لاتعلقی اور لاپرواہی کا سلسلہ برقرار رکھے تو عوامی سطح پر حکومت کے خلاف احتجاج کرنے اور شعور بیدار کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔