فی سلینڈر 994 ادائیگی ، پٹنہ میں 1031 روپئے میں سربراہی، تین ماہ میں 89 روپئے اضافہ
حیدرآباد ۔8 ۔ جون (سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے پکوان گیس سلینڈر کی قیمت میں 29 روپئے کے اضافہ کے بعد حیدرآباد ملک کا دوسرا بڑا شہر بن چکا ہے جو پکوان گیس سلینڈر کیلئے زائد قیمت ادا کر رہا ہے ۔ 14.2 کیلو گرام کے پکوان گیس سلینڈر کی قیمت میں 29 روپئے کے اضافہ سے صارفین مجموعی طور پر 994 روپئے ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ ماہرین کے مطابق عام طور پر ایک خاندان کے لئے ہر ماہ ایک گیس سلینڈر کی ضرورت پڑتی ہے اور اضافی بوجھ کے نتیجہ میں سالانہ 1068 روپئے زائد ادا کرنے ہوں گے۔ ایسے خاندان جو ہر ماہ ایک سے زائد سلینڈر کا استعمال کرتے ہیں، انہیں زائد قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ ملک میں بہار کا شہر پٹنہ گھریلو پکوان گیس کی قیمت کے معاملہ میں سرفہرست ہے۔ 29 روپئے اضافہ کے بعد پٹنہ میں ایل پی جی گیس سلینڈر کی قیمت 1031.50 روپئے ہوچکی ہے۔ حیدرآباد 994 روپئے کے ساتھ دوسرے اور کولکتہ 957.50 روپئے کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے ۔ بنگلور میں ایل پی جی سلینڈر کی قیمت 994.50 روپئے ہوچکی ہے۔ دہلی میں سلینڈر کی قیمت 942 روپئے جبکہ ممبئی میں 941.50 روپئے ہوچکی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ سرکاری سطح پر بھلے ہی کوئی قیمت ہو لیکن سربراہی کے موقع پر گیس کمپنی کے ملازمین زائد رقم حصول کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں گیس سلینڈر کی قیمت ایک ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ شہری علاقوں میں سلینڈر سربراہ کرنے والے ملازمین تقریباً 50 روپئے زائد رقم وصول کرتے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں گیس کی قیمت کے نتیجہ میں سربراہ کرنے والی کمپنیوں نے بلیک میں فروخت کرتے ہوئے زائد رقم حاصل کی۔ حیدرآباد کے صارفین دہلی کے مقابلہ فی سلینڈر 52 روپئے زائد ادا کر رہے ہیں۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران ایل پی جی گیس سلینڈر کی قیمت میں دو مرتبہ اضافہ ہوا ہے۔ مارچ میں 60 روپئے کا اضافہ کیا گیا تھا اور تازہ ترین 29 روپئے اضافہ سے جملہ 89 روپئے فی سلینڈر کا بوجھ پڑ رہا ہے۔ بڑھتی مہنگائی کا اثر زندگی کے ہر شعبہ پر پڑا ہے اور غذائی اجناس کے علاوہ بچوں کی تعلیمی ضرورتوں کے اخراجات میں بھی اضافہ درج کیا گیا۔1/k/m/b