یومیہ 22.40 لاکھ ماہانہ 6.72کروڑ روپئے کا صارفین پر اضافی بوجھ ، آئیل کمپنیوں اور حکومت کی مجرمانہ خاموشی
حیدرآباد : 22 نومبر ( سیاست نیوز) ایک طرف پکوان گیس کی قیمتو ں میں اضافہ ہورہا ہے ،د وسری طرف ڈور ڈیلیوری بوائز فی سیلنڈر پر 20 تا 30روپئے زائد وصول کرتے ہوئے صارفین پر زائد مالی بوجھ عائد کررہے ہیں ۔ فی الحال حیدرآباد میں پکوان گیس ( ڈومیسٹک) فی سیلنڈر کی قیمت 952 روپئے ہے ۔ ڈیلیوری بوائز 980 روپئے وصول کررہے ہیں ۔ یہ پکوان قیمت کی مقررہ قیمت سے 28روپئے زیادہ ہے ۔ پکوان گیس ، جی ایس ٹی ، ایس جی ایس ٹی ، ڈور ڈیلیوری چارج جس میں ( ٹرانسپورٹ ، ہمالی وغیرہ) شمار کرتے ہوئے ڈسٹری بیوٹرس بل تیار کرتے ہیں ۔ ڈسٹری بیوٹرس کی جانب سے ڈیلیوری بوائز کو مناسب تنخواہیں ادا نہ کرنے کی وجہ سے ڈیلیوری بوائز صارفین سے وصول کررہے ہیں ۔ شہر حیدرآباد میں پکوان گیس کے تقریباً 26.80 لاکھ صارفین ہیں ۔ یومیہ تقریباً 90 ہزار افراد ری فیل کیلئے بکنگ کراتے ہیں ، آئیل کمپنیوں کی جانب سے تقریباً 115 ایل پی جی گیس ایجنسیاں اپنے 1250 بوائز ( عملہ ) کے ذریعہ 80 ہزار پکوان گیس سیلنڈرس ڈور ڈیلیوری کراتے ہیں ۔ ڈیلیوری بوائز کی جانب سے فی الحال گیس سیلنڈر کی قیمت کے ساتھ 28 روپئے زیادہ وصول کررہے ہیں ۔ اس طرح روزآنہ 22.40لاکھ اور ماہانہ 6.72 کروڑ روپئے صارفین سے لوٹ لیا جارہا ہے جس کو آئیل کمپنیاں اور محکمہ سیول سپلائیز کی جانب سے نظرانداز کیا جارہا ہے ۔ صارفین کی جانب سے آن لائن میں پکوان گیس بکنگ کرانے کے بعد بل جنریٹ ہوتا ہے ۔ ڈسٹری بیوٹرس کی ذمہ داری ہے کہ اپنے عملہ کے ساتھ صارفین کو گیس سربراہ کریں ۔ گودام سے اندرون 5 کیلو میٹر تک گیس سربراہ کرنے پر کوئی ڈیلیوری فیس وصول نہیں کی جانی چاہیئے ۔ 6 تا 15 کیلو میٹر دوری پر ڈیلیوری کرنے پر ٹرانسپورٹ چارجس 10روپئے وصول کیا جائے ۔ 16 تا 30 کیلو میٹر کی دوری پر 15روپئے وصول کیا جائے ۔ اگر صارف گودام پہنچ کر گیس لیں تو بل میں 8روپئے کی کمی کی جائے ۔ ڈور ڈیلیوری کے موقع پر مقررہ وزن تول کر دکھایا جانے کے قواعد ہیں جس پر کوئی عمل آوری نہیں ہورہی ہے ۔ ن