چیف منسٹر ریونت ریڈی کا جنوبی ہند کے چیف منسٹرس کے ساتھ مرکز پر دباؤ بنانے کا فیصلہ
حیدرآباد۔ 7 فروری (سیاست نیوز) چیف منسٹر اے ریونت ریڈی میڈیکل کالجوں کے مقامی کوٹہ کے تحفظ کیلئے جنوبی ریاستوں کے چیف منسٹرس کے ساتھ مل کر مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی پر غور کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں مقامی کوٹہ سسٹم کو خارج کردیا ہے جس کے بعد تلنگانہ کے علاوہ جنوبی ہند کے طلبہ کو زیادہ نقصان ہوگا۔ طلبہ میں پائی جانے والی تشویش کو دُور کرنے کیلئے چیف منسٹر ریونت ریڈی، تملناڈو، کرناٹک، آندھرا پردیش، کیرالا کے چیف منسٹرس سے مشاورت کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالنے کیلئے غور کررہے ہیں۔ تلنگانہ کے بشمول جنوبی ہند میں میڈیکل کالیجس کی تعداد زیادہ ہے۔ لوکل کوٹہ کی منسوخی سے مقامی طلبہ کو جہاں نقصان ہوگا، وہیں شمالی ہند کے طلبہ تلنگانہ کے بشمول جنوبی ہند کے میڈیکل کالیجس میں داخلے کیلئے اہل ہوجائیں گے۔ مقامی طلبہ کو میڈیکل کالجوں کے ایم بی بی ایس اور پی جی نشستوں میں داخلوں کیلئے ریاستی حکومت نے جی او 148 اور 149 متعارف کرایا تھا، تاکہ اس سے تلنگانہ کے زیادہ سے زیادہ طلبہ کو طبی کالیجس میں داخلہ مل سکے۔ تاہم سپریم کورٹ نے مقامی کوٹہ کو منسوخ کردیا جس سے نہ صرف مقامی طلبہ داخلوں سے محروم ہوجائیں گے بلکہ تحفظات پر عمل آوری میں بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ریاست میں 2014ء تک صرف 5 سرکاری میڈیکل کالیجس تھے، جبکہ 2024ء میں اس کی تعداد بڑھ کر 34 تک پہنچ گئی۔ ریاست کے ہر ضلع میں ایک سرکاری میڈیکل کالج قائم کیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025ء تک تلنگانہ میں 2,924 پی جی نشستوں کی تعداد ہوجائے گی۔ اس میں 50% لوکل کوٹہ مختص ہے جس کے تحت 1,462 نشستیں تلنگانہ کے طلبہ کیلئے دستیاب ہوں گی۔ سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کے پیش نظر اب یہ نشستیں آل انڈیا کوٹہ میں چلی جائیں گی اور ساتھ ہی ریاست میں موجود ایس سی، ایس ٹی، بی سی تحفظات کو بھی نقصان پہنچے گا جس کے پیش نظر چیف منسٹر نے جنوبی ریاستوں کے چیف منسٹرس کے ساتھ مل کر مرکز پر دباؤ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ 2
پرجا وانی پروگرام میں 5000 درخواستوں کی وصولی
حیدرآباد ۔7۔فروری (سیاست نیوز) حکومت کے پرجا وانی پروگرام میں آج جملہ 4901 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ مہاتما جیوتی با پھولے پرجا بھون میں آج عوامی مسائل کی سماعت کرتے ہوئے تحریری نمائندگیاں وصول کی گئیں۔ نائب صدرنشین تلنگانہ پلاننگ بورڈ ڈاکٹر جی چنا ریڈی نے عوامی مسائل کی سماعت کی اور درخواستوں کو وصول کیا۔ حکومت کی اسکیمات کے سلسلہ میں زیادہ درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ اندراماں ہاؤزنگ کیلئے 2865 اور راشن کارڈس کے لئے 1640 درخواستیں داخل کی گئیں۔ دونوں اسکیمات کے علاوہ دیگر محکمہ جات سے متعلق 401 درخواستیں داخل کی گئیں۔ پنچایت راج ڈپارٹمنٹ سے متعلق 157 ، برقی 105 اور ریونیو ڈپارٹمنٹ کی 30 درخواستیں داخل کی گئیں۔ دیگر محکمہ جات سے متعلق امور پر 109 درخواستیں داخل ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر جے چنا ریڈی نے عوام کو یقین دلایا کہ ان کی درخواستوں کو متعلقہ محکمہ جات سے رجوع کرتے ہوئے عاجلانہ یکسوئی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جات سے مسائل کی یکسوئی پر تفصیلات حاصل کی جارہی ہے۔1