بی جے پی کے معطل شدہ رکن اسمبلی راجہ سنگھ کے سنگین الزامات، 31 ہزار سرٹیفکیٹس معطل
حیدرآباد۔ 7 مارچ (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں پیدائش و اموات کے فرضی سرٹیفکیٹس کی اجرائی کا معاملہ منظر عام پر آتے ہی گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں ہلچل پیدا ہوگئی۔ بی جے پی کے معطل شدہ رکن اسمبلی راجہ سنگھ نے سنگین الزامات عائد کئے ہیں جس کے بعد کمشنر جی ایچ ایم سی لوکیش کمار نے بلدیہ کی جانب سے بغیر مناسب ثبوت کے جاری کئے گئے 31 ہزار پیدائش و اموات کے سرٹیفکیٹس کومعطل کرتے ہوئے سارے واقعہ کی ویجلنس تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ راجہ سنگھ نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے باشندوں کو بھی فرضی پیدائش و اموات کے سرٹیفکیٹس جاری کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے سنسنی پیدا کردی ہے جس کے بعد حکومت بالخصوص محکمہ بلدی نظم و نسق چوکس ہوگیا ہے۔ راجہ سنگھ نے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کو اقتدار حاصل ہونے کے بعد پرانے شہر میں کسی بھی صورت میں سرجیکل اسٹرائک کیا جائے گا۔ پاکستان ۔ بنگلہ دیش اور دوسرے ممالک کے دراندازوں کی روک تھام کے لئے این آر سی، سی اے اے پر عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چند لوگوں نے نقلی برتھ سرٹیفکیٹس کے ذریعہ پاسپورٹس اور ویزے بھی حاصل کئے ہیں اور چند اہم عہدوں پر ملازمت بھی حاصل کی ہے۔ فرضی اموات سرٹیفکیٹس کا بیجا استعمال کرتے ہوئے انشورنس کمپنیوں کو دھوکہ دیا ہے۔ اچانک یہ اسکینڈل منظر عام پر آتے ہی پیدائش و اموات کے سرٹیفکیٹس کی اجرائی کو فوری طور پر روک دیا گیا ہے جس سے حقیقی درخواست گذاروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جی ایچ ایم سی سے تعلق رکھنے والے اے وی ڈی ایم ڈائرکٹر پرکن ریڈی نے بتایا کہ آج ہولی کی تعطل ہے۔ چہارشنبہ سے اس کی تحقیقات کا آغاز کیا جائے گا۔ حیدرآباد و سکندرآباد میں پیدائش و اموات کی تفصیلات وقتاً فوقتاً جی ایچ ایم سی میں اسسٹنٹ میڈیکل اینڈ ہیلت اسٹیشن کی جانب سے اندراج کرنے کے ساتھ اجرائی کی جاتی ہے۔ تاہم ان کی جانب سے مکمل تفصیلات درج نہیں کرنے کی وجہ سے یہ مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ جی ایچ ایم سی نے وضاحت کی ہے کہ جن دستاویزات کو بلاک میں رکھا گیا ہے اگر ان کی جانب سے صحیح تصدیقی دستاویزات آن لائن میں اپ لوڈ کئے جاتے ہیں تو ان کی فیلڈ لیول پر جانچ کی جائے گی اور تمام دستاویزات درست پائے گئے تو انہیں فوری طور پر پیدائش و اموات کی سرٹیفکیٹس جاری کئے جائیں گے۔ ن