چارلس سوم برطانیہ کے نئے بادشاہ

   

لندن: جیسے ہی ملکہ برطانیہ نے اپنی آخری سانسیں لیں، برطانیہ کی حکمرانی فوری طور پر بغیر کسی تقریب کے ان کے جانشین اور سابق پرنس آف ویلز چارلس کو منتقل ہو گئی۔تاہم انھیں بادشاہ کا تاج پہننے سے قبل کئی روایتی مراحل سے گزرنا ہو گا۔نئے برطانوی بادشاہ کے دادا جارج پنجم کے نام کا پہلا حصہ البرٹ تھا لیکن انھوں نے اپنے نام کے درمیانی حصے کا انتخاب کیا تھا۔ چارلس کے لیے بھی پہلا کام اپنے لیے ایک نام کا انتخاب ہے اور انھوں نے اپنے لیے شاہ چارلس سوئم کا نام منتخب کیا ہے ۔چارلس اپنے ٹائٹل میں تبدیلی کا سامنا کرنے والی واحد شخصیت نہیں۔ ان کے جانشین شہزادہ ولیم خود بخود اب پرنس آف ویلز تو نہیں بن جائیں گے تاہم انھیں اپنے والد کا دوسرا خطاب ڈیوک آف کارنویل ضرور مل گیا ہے جبکہ ان کی اہلیہ کیتھرین اب ڈچز آف کارنویل کہلائیں گی۔چارلس کی اہلیہ کا نیا ٹائٹل ‘کوئین کونسورٹ’ ہو گا۔ کونسورٹ وہ اصطلاح ہے جو بادشاہ کی شریکِ حیات کے لیے استعمال کی جاتی ہے ۔والدہ کی وفات کے ابتدائی 24 گھنٹوں کے دوران سرکاری طور پر چارلس کی بادشاہت کا اعلان کیا جا،ے گا۔ یہ تقریب لندن کے سینٹ جیمز پیلس میں ایک روایتی کمیٹی کے سامنے منعقد ہو گی۔اس کمیٹی میں موجودہ اور سابق سینیئر ارکانِ پارلیمان پر مشتمل پریوی کونسل کے ارکان، سینیئر سرکاری عہدیدار، دولتِ مشترکہ کے ہائی کمشنرز اور لندن کے لارڈ میئر شامل ہیں۔روایتی طور پر بادشاہ اس تقریب میں شامل نہیں ہوتا۔اس اجلاس میں ملکہ الزبتھ کی موت کا اعلان پریوی کونسل کے لارڈ پریزیڈنٹ کریں گے ۔بعدازاں اس اعلان پر وزیراعظم، آرچ بشپ آف کنٹربری اور لارڈ چانسلر سمیت اہم شخصیات دستخط کریں گی۔