لوک سبھا الیکشن کے لیے مفاہمت ، مختلف امور پر بات چیت
حیدرآباد۔5۔مارچ۔(سیاست نیوز) ’سیاست میں کوئی کسی کا مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا‘ سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور ریاستی سربراہ بہوجن سماج پارٹی مسٹر آر ایس پروین کمار کے درمیان ہوئی ملاقات اور عام انتخابات کے دوران مشترکہ مقابلہ کے اعلان کے بعد یہ بات واضح ہوگئی۔ مسٹر آر ایس پروین کمار نے آج بی آر ایس سربراہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے ملاقات کی اور اس ملاقات کے بعد مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں بی آر ایس اور بی ایس پی کے درمیان انتخابی مفاہمت طئے ہوچکی ہے اور نشستوں کی تقسیم کے سلسلہ میں بی ایس پی سربراہ مایاوتی سے بات چیت کے بعد قطعیت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا مجوزہ پارلیمانی انتخابات میں بی ایس پی سے مفاہمت کے سلسلہ میں بتایاکہ بی آر ایس اور بی ایس پی قدیم ساتھی ہیں اور دونوں ہی سیاسی جماعتوں کے نظریات یکساں ہیں اسی لئے بی آر ایس نے بی ایس پی کی جانب سے پیش کردہ تجویز کو قبول کرتے ہوئے انتخابی مفاہمت کا فیصلہ کیا ہے۔ مسٹر آر ایس پروین کمار سابق آئی پی ایس عہدیدار و ریاستی سربراہ بی ایس پی نے کے سی آر سے ان کی قیامگاہ پر ملاقات کرتے ہوئے ریاست کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ بعد ازاں انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں غریب اور پسماندہ طبقات کے لئے جو فلاحی اسکیمات چلائی جاتی رہی ہیں وہ قابل قدر ہیں اور ان اسکیمات کے سبب ہی مایاوتی نے بی آر ایس کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بی آر ایس دور حکومت میں اقامتی اسکولوں کے قیام کے علاوہ امن و امان کی برقراری کے لئے کئے جانے والے اقدامات اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے علاوہ گنگاجمنی تہذیب کی مثال قائم کئے جانے کا حوالہ دیا اور کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے مقابلہ کے لئے ان نظریات کی حامل سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مرکز میں موجود فاشسٹ حکومت کا مقابلہ سیکولر جماعتوں کے درمیان اتحاد کے ذریعہ ہی ممکن ہے ۔ بی آر ایس سربراہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور بی ایس پی ریاستی سربراہ مسٹر آر ایس پروین کمار کے درمیان ہوئی اس ملاقات کے دوران دونوں سیاسی جماعتوں کے سرکردہ قائدین مسٹر ٹی ہریش راؤ‘ مسٹر ویمولہ پرشانت ریڈی ‘ مسٹر جے سنتوش کمار‘ مسٹر بالکا سمن ‘ مسٹر ڈی سرینواس رکن قانون ساز کونسل کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ میں لوک سبھا کی نشستوں کی تقسیم کے سلسلہ میں بتایا کہ وہ جلد ہی بی ایس پی سربراہ مسز مایاوتی سے بات چیت کرتے ہوئے اس معاملہ کو قطعیت دیں گے ۔ بی آر ایس کی جانب سے تاحال 4 لوک سبھا نشستوں پر امیدواروں کا اعلان کیا جاچکا ہے اور ابھی 13 نشستیں باقی ہیں۔چند ہفتہ قبل تک بھی یہ قیاس کیا جارہا تھا کہ بھارت راشٹرسمیتی جلد ہی بی جے پی کے ساتھ انتخابی مفاہمت کرے گی لیکن کے سی آر کی دختر و رکن قانون ساز کونسل مسز کے کویتا کو سی بی آئی کی نوٹس کے بعد دونوں سیاسی جماعتوں نے حکمت کے تحت دوریاں اختیار کرلی ہیں۔3