ترقیاتی فلاحی کاموں کے علاوہ ڈبل بیڈروم مکانات و دیگر امور کا جائزہ لیا جائے گا
حیدرآباد ۔ 26 نومبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے سی آر نے 28 نومبر کو اضلاع کلکٹرس کا اجلاس طلب کیا ہے۔ واضح رہے ڈسمبر میں اسمبلی کا سرمائی اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے پیش نظر ریاست میں جاری ترقیاتی کام اور فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لیا جاسکے۔ اس ضمن میں چیف سکریٹری سومیش کمار نے تمام اضلاع کلکٹرس کو خصوصی ہدایت جاری کردی ہے۔ اس اجلاس میں اہم موضوع دھرانی پورٹل کے مسائل ہیں جس کو بڑی حد تک حل کرنے پر توجہ دی جارہی ہے۔ (پی او بی) ممنوعہ فہرست میں درج اراضیات کی غلطیوں کو درست کرنے کے معاملے میں اہم فیصلے کئے جانے کے امکانات ہیں جس پر کلکٹرس کی جانب سے جنگی خطوط پر مسائل کی یکسوئی کیلئے اپنی توجہ مرکوز کرچکے ہیں۔ ایک ہفتہ قبل تلنگانہ ہائیکورٹ نے انعامی اراضیات کے معاملے میں اپنا فیصلہ سنایا تھا (او آر سی) سب آرڈیننٹ سرٹیفکیٹ کے بغیر خریدی گئی اراضیات حکومت کی ملکیت ہونے کے احکامات جاری کئے گئے تھے۔ اس سلسلہ میں انعامی اراضیات کس کے کنٹرول میں ہیں، اہل افراد کے پاس کتنی اراضیات ہیں؟ اس پر اجلاس میں تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا۔ تمام ریکارڈس کے ساتھ اجلاس میں شریک ہونے کی کلکٹرس کو ہدایت دی گئی ہے۔ ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیرات، غریب عوام میں تقسیم کرنے کی تفصیلات کا بھی اجلاس میں جائزہ لیا جائے گا۔ ساتھ ہی بنجر اراضیات کے مسئلہ پر بھی غوروخوض ہوگا۔ حال ہی میں ایک فاریسٹ آفیسر کے قتل پر چیف منسٹر کے سی آر برہم ہے۔ بنجر اراضیات کی نشاندہی، قبائلوں میں تقسیم کرنے کیلئے تشکیل دی گئی کمیٹیوں کی کارکردگی کا بھی اجلاس میں جائزہ لیتے ہوئے مستقبل کی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ن